دین اسلام

توحید

«

صلوٰۃ

«

صوم

«

زکوٰۃ

«

حج

«

اسلام کی بنیاد
اسلام کی بنیاد
بسم اللہ الر حمٰن الرحیم
حج

جو شخص محض اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے حج کرے اور اس میں نہ کوئی بے حیائی کرے اور نہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے تو وہ اِس حالت میں لوٹتا ہے کہ جس حالت میں وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اُسے جَنا تھا(یعنی گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے)۔

۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔


عورتوں کے لئے بہترین جہاد حج مبرور ہے۔

۔(صحیح بخاری)۔

نوٹ: حج مبرور اس حج کو کہتے ہیں جو نیکیوں سے بھرپور ہو۔


ایمان اور جہاد کے بعد حج مبرور کا بڑا درجہ ہے۔

۔(صحیح بخاری)۔


حج مبرور کا کوئی صلہ نہیں سوائے جنّت کے۔

۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔


عرفہ کے دن سے زیادہ کسی اور دن اللہ تعالیٰ بندوں کو دوزخ سے آزاد نہیں کر تا، اللہ تعالیٰ قریب ہوجاتا ہے اور فرشتوں کے سامنے ان پر فخر کرتا ہے پھر فرماتا ہے: ان

لوگوں کا کیا مقصد ہےِ؟

۔(صحیح مسلم)۔


پے درپہ حج اور عُمرہ کرنا فقراور گناہوں کو اس طرح مٹادیتا ہے جس طرح بھٹّی لو ہے، سونے اور چاندی کے مَیل کو دور کردیتی ہے۔(یعنی حج کے ساتھ عُمرہ بھی کرنا چاہیئے)۔

۔(رواہ التّرمذی و صححّہ فی کتابُ الحج باب ماجاء فی ثواب الحج والعمرۃ جزء اوّل ص252)۔


حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کا وفد ہوتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنے والے یا اللہ تعالےٰ کے مہمان ہوتے ہیں۔

۔(رواہ ابنِ خزیمۃ-سندہ صحیح-ابن خزیمۃ جزء 4 ص130)۔


دو عُمروں کی درمیانی مدّت کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔


رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔

۔(صحیح بخاری)۔