دین اسلام

توحید

«

صلوٰۃ

«

صوم

«

زکوٰۃ

«

حج

«

اسلام کی بنیاد
اسلام کی بنیاد
بسم اللہ الر حمٰن الرحیم
صلوٰۃ

صلٰوۃ، اسلام کا ایک ایسا فریضہ ہے جس کی ادائیگی سفروحضر، صحت و بیماری، امن و جنگ کسی بھی حالت میں معاف نہیں۔

ایمان لانے کےبعد اوّلین اہمیت اسی رُکن کی ہے اور آخرت میں بھی سب سے اول اسی کی پرسش ہوگی۔ جس وقت سے صلٰوۃ فرض ہوتی اس وقت لے کر تاحیات اس کی ادائیگی سے مفرنہیں۔ یہی سب سے پہلا حکم ہے جس کی اطاعت کرنی ہوتی ہے، اگر کسی نے اس پہلے ہی حکم سے انکار کردیا تو گویا ایمان لایا ہی نہیں۔ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا



بےشک (مؤمن) آدمی اور شرک کُفر کے درمیان ترکِ صلٰوۃ (ہی کا فرق) ہے۔
(صحیع مسلم جلد اول - 49)

معلوم ہوا کے صلٰوۃ کوئی ایسی چیز ہے جس کے ترک سے آدمی کا شمار اُسی گروہ کے ساتھ ہوتا ہے جس گروہ میں وہ اسلام لانے سے قبل تھایعنی اس کا ایمان لانا بے معنیٰ ہوجاتا ہے۔ جب اُس نے اپنے آقا کے پہلے ہی حکم کی اطاعت سے روگردانی کی تو پھر اس نے اپنے آقا کو آقا ہی تسلیم ہی نہیں کیا بلکہ اُس نے اپنے نفس اور خواہش کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے درمیان حائل کرکے نفس کی اطاعت کی گویاوہ نفس کا بندہ ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کا بندہ نہیں رہا اور یہی وجہ ہے کہ ترکِ صلٰوۃ کو شرک کہاگیاہے۔

رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے مندرجہ ارشاد کے مطابق ترکِ صلوٰۃ سے کُفرو شرک لازمی آتا ہے۔ اس بات سے اندازہ ہوتاہے کہ یقینًا صلٰوۃ میں کوئی ایسا راز مضمر ہے۔ اس کا کوئی ایسا فلسفہ ہے، اس میں کوئی ایسی قوت ہے اور یہ کوئی ایسا تربیتی نظام ہے جو دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی کے لئے ضروری ہے۔ اس کےبغیر نہ کوئی دُنیا میں صحیع معنی میں امن وسکون سے زندگی بسر کرسکتا ہے نہ آخرت میں جنّت کا مستحق ہوسکتا ہے۔ لہٰذامعلوم ہوا کہ اسلام اور صلٰوۃ لازم و ملزوم ہیں اور مسلم کی اوّلین پہچان یہی ہے کہ وہ صلٰوۃکا پابند ہو۔

ایمان اور عمل صالح ہی آخرت میں ذریعہ نجات ہوں گے۔ صلٰوۃ بزاتِ خود ایمان بھی ہے اور عملِ صالح بھی اگرصلوٰۃ کو اُمُّ اصّالحات کہا جا ئے تو بہت مناسب ہوگا کیوں کہ سب سے پہلا عملِ صالح یہی ہے اور زندگی بھریہ عملِ صالح جاری رہتا ہے۔ اصلاحِ فرد و معاشرہ کے لئے اس سے بہتر کم خرچ بلکہ بلا خرج کوئی تعلیمی و تربیتی نظام نہیں ہے اگر ہم صلوٰۃ کا مقام اس کی اہمیت و افادیت کو سمجھ لیں تو ہماری پوری زندگی اور زندگی کا ہر شعبہ سنور جائے، پھر ہم زندگی اس طرح‌ گزاریں جس طرح گزارنےکا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔





یقینًا صلوٰۃ فہش اور بُری باتوں سے روکتی ہے۔
(سورۃ عنکبوت - 45)

معلوم ہوا کہ صلوٰۃ کا مقصد بندہ کو ایسی تربیت دینا ہے کہ اس سے بےادبی، بدتہزیبی، بدہئتی بد اخلاقی سب دور ہوجائیں، تمام بُرائیاں اور وہ باادب، بااخلاق، شائستہ ومہذب بن جائے، اس کے نفس اور اس کی ذات میں نکھار آجائیں۔ صلوٰۃ کا منکرات سے روکنےکا فلسفہ بھی بڑا ہی عجیب ہے۔ دنیا میں بے شمار منکرات ہیں، ہر ایک کو نہ کر نے کی تعلیم و تربیت دینا کسی کے بس کی بات نہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے صلوٰۃ کے نظامِ تربیت میں ایسا فلسفہ رکھا ہے کے بندہ خود بخود منکرات سے بچتا چلا جاتا ہے۔صلوٰۃ میں تمام جائز کام نا جائز ہو جاتے ہیں۔ ذہن و خیال کی آذادی ختم ہو جاتی ہے۔ نگاہ بے بس ہو جاتی ھے، زبان کسی سے کلام نہیں کرسکتی۔ ہاتھ پیرَصلوٰۃ کی حرکت کے علاوہ کوئی حرکت نہیں کر سکتے، کھانا پینا سب بند ہو جاتا ہے، غرض کہ دن میں کئی مرتبہ ضائیز کاموں کو ترک و پرہیز کی تربیت دی جاتی ہے، اس کی مشق کرائی جاتی ہے۔ جب انسان کے اعضاء اس کا ذہن و فکر جائز کاموں کے ترک کی تربیت پاجاتے ہیں تو ذہن و شعور میں ایک ایسی صلایت پیدا ہو جاتی ہے کہ اس کے لئے منکرات سے بچنا آسان ہو جاتاہے۔ مزید برآں صلوٰۃ میں قرآن مجید کی تلاوت کی جاتی ہے۔اس سے مصّلی کو بہت سے منکرات کا علم ہو جاتا ہے اور اس طرح منکرات کی بارباریاددہانی اور ارتکاب پر ترہیب منکرات سے بچنے کا سبب بن جاتی ہے۔

صلوٰۃ صرف آخرت میں ہی نجات کا ذریعہ نہیں بلکہ دنیوی زندگی کو صحیح طور پر گزارنے کے لئے اشد ضروری ہے۔ یہ صحیح آدابِ معاشرت، انفرادی اور اجتمائی تعلقات اور فرائض و حقوق کی تعلیم و تربیت دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہونے کا شعور ہر وقت تازہ اور زندہ رکھتی ہے۔ یہ انفادی کردار کو سُداھارنے اور سنوارنے کا اہم ذریعہ ہے۔ افراد کو صلاح اور فلاح کی طرف رغبت کرنے کی تربیت دیتی ہے۔ جس وقت مؤزن کے حَیَّ عَلَی الٌفَلاَح کہنے کی آواز کانوں میں آتی ہے تو مسجد کی طرف رغبت و شوق سے قدم اُٹھتےہیں اور یہ اس بات کی دعوت و تربیت ہے کہ جب کبھی بھی صلاح و فلاح کے لئے بلایا جائے تو سب کام چھوڑ کر جمع ہوجایاکرو۔ صلوٰۃ کے لئے طہارت، مسواک اور وضوء جسمانی طور پر پاک صاف رہنے کا ذریعہ ہیں۔ پاکی و صفائی صحت و تندرستی کے لئے لازمی ہے۔ اس طرح صلوٰۃ صحت و تندرستی کی ضامن ہے۔ صلوٰۃ باجماعت ادا کر نے کی تعلیم و تربیت ہماری اجتمائی زندگی کا اساس ہے۔ دن میں پانچ مرتبہ محلہ کے افراد جمع ہوتے ہیں۔ جمع ہونے والے ایک ہی نظریعے کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کا اللہ ایک، رسول ایک، کتاب ایک، قبلہ ایک، پھر سب کا مقصد بھی ایک، یہ وحدِ تسوّر، وحدِصُوری، کی دعوت و تربیت دیتی ہے۔ بلا تفریق چھوٹے بڑے، امیروغریب، سرمایہ دارومزدور، حاکم ومحکوم ایک ہی صف میں کندھے سے کندھا،قدم سے قدم ملائےکھڑے ہوتےہیں، جس طرح سیسہ پلائی دیوار ہو۔  نہ یہاں کسی کی جگہ محفوظ ہو تی ہے نہ مخصوص، اور نہ کسی کو اس جگہ سے ہٹایا جا سکتا ہے۔۔ نہ حاکم محکوم کے ساتھ کھڑا ہونے میں عار محسوسکرتا ہے۔ مھمودوایاز ایک ہی صف میں شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہر شکص کا غرور و تکبُّردن میں پانچ مرتبہ پامال ہوجاتا ہے۔ غرض یہ کہ ہمارا اتفاق، اتحاد، اور ایک دوسرے سے قریب ہوناہمیں اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ ہم سب ایک برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک دوسرے کے بھائی اوررفیق ہیں، ہمارے اغراض و مقاصد ، ہمارے فوائد و نقصانات سب مشترک ہیں۔  غور کییجئے کے اگر ان احساساتکے ساتھ ہم محلہ کے افراد صلوٰۃ ادا کریں تو ہماری زندگی، ہمارے شب و روز کیسے خوشگوار ہوں گے۔ پھر ہمیں احساس ہوگا کہ یہ نظامِ صلوٰۃ ہماری زندگی کے لئے کتنا ضروری ہے۔

کوئی معاشرہ اس وقت تک فلاح نہیں پاسکتا جب تک افراد میں سمع وطاعت کا جزبہ نہ ہو۔ صلوٰۃ باجماعت  سمع و طات کی تربیت دیتی ہے۔ اطاعت کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔اپنے امام، اپنے قائد، اپنے سے بڑے کی عزّت و احترام کا درس دیتی ہے۔ امام کی غلطی پر اس کو برملاٹو کا نہیں جاتا، یہ بڑے و بزرگوں کے ساتھ بے ادبی و گستاخی ہے۔ امام کے احترام کا تقاصہ ہے کہ بڑے حسن و خوبی کے ساتھ اس کی غلطی کی نشاندہی کی جائے۔ اگر قراّت میں غلطی ہوئی ہو تو صحیع  آیت پڑھ دی جائے۔ کوئی اور غلطی ہوجائے تو صرف سبحان اللہ کہہ کر اشارہ کیا جائے کہ صرف اللہ تعالیٰ‌ کی ذات ہر قسم کی غلطیوں سے پاک ہے، انسان سے غلطی ہوسکتی ہے۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ اپنے رہنما، اپنے قائد ، اپنے بزرگوں کی اصلاح کے لئے کتنے اچھے، خوبصورت اور باادب طریقہ کی تعلیم و تربیت دی گئی۔ اگر امام اپنی غلطی کو سمجھ کر تصحیع کرتا تو اجازت نہیں ہے کہ جماعت سے علیحٰدگی اختیار کی جائے۔ صلوٰۃ ختم ہونے کے بعد شریعت کے طریقہ کے مطابق غلطی کی تلافی کردی جاتی ہے۔ اس طرح نظامِ صلوٰۃ‌ِ باجماعت میں فساد برپا ہونے نہیں دیا جاتا۔ ہماری معاشرتی زندگی میں یہ تربیت اصولی اختلاف اور غلطیوں سے پیدا ہو نے والے تنازعات اور فسادات کا سِدّباب کرتی ہے۔

غرض کہ صلوٰۃ ہماری زندگی کو مختلف پہلوؤں کو سدھارتی اور سنوارتی ہے۔انفرادی، اجتمائی اور تربیتی ادارہ کا کام انجام دیتی ہے۔ بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ عملی مساوات کا درس دیتی ہے۔ محبت، حمدردی، یکجہتی، تعاون، ایثار، فرض شناسی جیسی صفات پیدا کرتی ہے۔ آرام طلبی سے بچاتی ہے۔ ضبطِ نفس کی مشق کراتی ہے۔ مستعدی اور باقائدگی پیداکرتی ہے۔ سمع و طاعت کا جذبہ پیدا کر تی ہے۔ انفرادی و اجتمائی فرائض کی تعلیم اور ان کی بجا آوری کی تربیت دیتی ہے۔ غرض یہ کہ مصلّی کا ذہن و فکر، اس کا نفس، سب کے سب ایسے نظم و ضبط کے ساتھ تربیت پاجاتے ہیں  کہ پھروہ اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی میں سرف کرتا ہے۔ اگر خطائیں و لغرشیں ہوتی ہیں تو کیوں  کہ یہ نظامِ تربیت زندگی بھر جاری رہتا ہے لہٰذا اصلاح ہوتی ہے اور معاشرہ میں بگاڑ مستقل طور پر وجود میں نہیں رہتا۔

متذکرہ بالا تفصیل سے اس بات کا علم ہوگیا ہو گا کہ صلوٰۃ آخرت کی نجات کے علاوہ دنیوی زندگی کے لئے کس قدر ضروری ہے لیکن یہ تمام فوائد یعنی دنیا کی بھلائیاں اور آخرت میں کامرانیاں اسی وقت نصیب ہوسکتی ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے تعلیم کردہ طریقہ پر صلوٰۃ ادا کی جا ئے۔ اللہ تعالیٰ نے صلوٰۃ کا طریقہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ سکھایا۔  رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے صحابہ کو حکم دیا کہ صلوٰۃ اس طرح پڑھو جس طرح تم لوگ مجھے پڑھتے دیکھتے ہو، مگر اللہ تعا لیٰ کے حکم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کے اس اہتمامو تاکید کے باوجود بھی صلوٰۃ کے طریقہ میں فرق پیدا ہوگیا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے انتقال کے بعد مدّت درازتک صلوٰۃ اسی طریقہ پے پڑھی جاتی رہی جس طرح رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے صحابہ کو تعلیم دی تھی۔ عورتیں اور مرد سب ایک ہی طریقہ سے صلوٰۃ پڑھتے تھے لیکن بعد میں صرف عورتوں اور مردوں کی صلوٰۃ کے طریقے میں ہی فرق پیدا نہیں ہوا بلکہ مَردوں مَردوں کی صلوٰۃ کا طریقہ بھی مختلف ہوگیا، ہر فرقہ نے اپنے مقررہ طریقہ پر صلوٰۃ پڑھنی شروع کردی حالانکہ صلوٰۃ صرف مسنون طریقہ پر ہی ادا کر نی چاہیئے تھی۔

سوال یہ ہے کے صلوٰۃ کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ اس کے جواب کے لئے کتابِ ہذاپیشِ خدمت ہے۔ عنوان صلوٰۃ کے شروع میں آدابُ الصلوٰۃ کے عنوان کے تحت ان تمام کو تا ہیوں اور نارواباتوں کی طرف توّجہ دلائی گئی ہے جو ہم لوگوں سے عمومًاصلوٰۃ میں غیر شعوری طور سرزد ہوتی ہیں اور صلوٰۃ کے حسن اور خوبصورتی کو ضائع کردیتی ہے۔ نہ حضورِ قلب پیدا ہو تا ہے نہ خوش وخضوع، اور ساتھ ہی دیکھنے والوں کو ان حرکات کے باعث نفرت پیدا ہو تی ہے۔ اگر ہم معمولی توجہ سے کام لیں تو ہماری صلوٰۃ بڑی خوبصورت اور حسین بن سکتی ہے۔

عنوان صلوٰۃ کے شروع میں صلوٰۃ کی اہمیت کو بھی شامل کردیاگیا ہے۔ قارئین سے  امید ہے کہ اس عنوان سے خاطر خواہ فائدہ اُٹھائیں گے۔