دین اسلام

توحید

«

صلوٰۃ

«

صوم

«

زکوٰۃ

«

حج

«

اسلام کی بنیاد
اسلام کی بنیاد
بسم اللہ الر حمٰن الرحیم
صوم

صوم کے معنی"رُک جانے" کے ہیں۔ اِصطلاحِ شرع میں اس کے معنی کھانے، پینے اور جماع سے رُک جانے کے ہیں۔

۔(سورۃ البقرہ - 187)۔

نوٹ:صوم کی جمع صیام ہے۔


فرض صیام(یعنی وہ صیام جو ضروری ہیں)۔

رمضان کے مہینہ کے صیام فرض ہیں جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اُسے چاہیئے کہ اس مہینہ میں صیام رکھے۔

۔(سورۃ البقرہ - 185)۔


رمضان کے فضائل

جب رمَضان کا مہینہ آتا ہے تو جنّت کے، رحمت کے اور آسمان کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین جکڑدئے جاتے ہیں۔

۔(صحیح بخاری کتاب الصوم باب ھل یقال رمضان جزء3ص32 و صحیح مسلم کتاب الصّوم باب فضل شھررمضان جزءاوّل ص432)۔


رمضان کا مہینہ با برکت مہینہ ہے اسی مہینہ میں قرآن مجید نازل ہوا۔ اس مہینہ میں ایک رات ہے جو بڑی قدرومنزلت والی  بہت بابرکت اور امن و سلامتی والی ہے۔ یہ رات ہزار مہینے سے افضل ہے۔

۔(سورۃ البقرۃ - 185)-(سورۃ الدخان - 3)-(سورۃالقدر)-(نسائی کتابُ الصیام باب فضل شھررمضان جزءاول ص230 و اسنادہ صحیح مرعاۃ جزء4 ص200)۔


اس مہینہ میں ہر رات کو ایک مناوی ندا کرتا ہے کہ اے خَیر کے متلاشی اگے بڑھ اور اے برائی کے متلاشی باز آجا۔ اس مہینہ میں ہر رات کو اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو دوزخ سے آزاد کردیتا ہے۔

۔(ترمذی کتاب الصوم باب ماجآءفی فضل شھررمضانجزء اوّل ص212 والحاکم 1/421 و سندہ صحیح-مرعاۃ جزء4ص199)۔


صوم کے فضائل

صوم ڈھال ہے۔صائم کے منہ کی خوشبوں اللہ تعالیٰ کے نزدیک مُشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ صوم خالص اللہ تعالیٰ کے لئے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی اس کا اجر دےگا۔

۔(صحیح بخاری کتابُ الصّوم باب فضل الصّوم جزء 3 ص31 و صحیح مسلم کتابُ الصّیام باب فضل الصّیام جزء اول ص465)۔


جنت میں ایک دروازہ ہے جسے رَیّان کہتے ہیں اس میں صرف صائم داخل ہوں گے دوسرا کوئی داخل نہیں ہوگا۔

۔(صحیح بخاری کتابُ الصّوم بابُ الرّیان للصّائمین جزء3 ص32 و صحیح مسلم کتاب الصّیام باب فضل الصّیام جزء اوّل ص466)۔


ہر نیکی کے بد لہ دس گناہ سے لے کر سات سو گناہ تک ہوتا ہے سوائے صوم کے۔ صوم کے ثواب کا تو بس اللہ تعالیٰ ہی کو علم ہے کتنا دیا جائے گا۔

۔(صحیح بخاری کتابُ الصوم باب فضل الصوم جزء3 ص 31)۔


صائم کے لئے  دو خوشیاں ہیں:ایک تو اس وقت جب وہ افطار کرتا ہے اور دوسری اس وقت جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا۔

۔(صحیح بخاری و مسلم)۔


جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک دن صوم رکھا اللہ تعالیٰ اس صوم کی بدولت اس کے چہرے کو دوزخ سے ستّر سال کی مسافت کے برابر دُور کر دے گا۔

۔(صحیح بخاری و مسلم)۔



رمضان کی ابتداء و انتہاء اور رؤیتِ ہلال

ہرمہینہ کی طرح رمضان کا مہینہ بھی کبھی 29 دن کا ہوتا ہے اور کبھی 30 دن کا۔

۔(صحیح بخاری و مسلم)۔


رمضان کے مہینہ کی ابتداء چاند دیکھ کر کرے اور اس کا اختتام بھی چاند دیکھ کر کرے یعنی چاند دیکھ کر ہی صیّام رکھنے شروع کرے اور چاند دیکھ کر ہی صِیام رکھنے بند کردے۔

۔(صحیح بخاری و مسلم)۔


شعبان کی تاریخوں کی نگرانی کرے تاکہ رمضان کی ابتداء معلوم کرنے میں غلطی نہ ہو۔

۔(ابوداؤد کتاب الصوم باب اذااغمی الشھر جلد اوّل ص325 و سندہ صحیح-نیل جزء 4 ص164)۔


اگر شعبان کی 29 تاریخ کو چاند نظر آجائے تو اگلے دن سے صیام رکھنا شروع کردے اور اگر 29 شِعبان کو چاند نظر نہ آئے تو اگلے دن روزہ نہ رکھے بلکہ شعبان کے 30 دن پورے کرے پھر اگلے دن صیام رکھنے شروع کرے۔

۔(صحیح بخاری)۔


اگر 29 رمضان کو چاند نظر نہ آئے تو اگلے دن افطار نہ کرے بلکہ رمضان شریف کے 30 دن پورے کرے پھر افطار کرے۔

۔(صحیح مسلم)۔


چاند دیکھ کر صیام شروع کرنے اور چاند دیکھ کر افطار کرنے کی شرط 29 تاریخ کو ہے، 30 تاریخ کے لئے یہ شرط نہیں ہے۔ 30 تاریخ کو اگر چاند دکھائی نہ دے تب بھی اگلے دن صیام رکھے یا افطار کرے۔

۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔  


اگر 29 تاریخ کو ابر ہونے کی وجہ سے چاند دکھائی نہ دے تو اس مہینہ کے 30 دن پورے کرے پھر اگلے دن سے دوسرا مہینہ شمار کرے۔

۔(صحیح بخاری)۔