دین اسلام

توحید

«

صلوٰۃ

«

صوم

«

زکوٰۃ

«

حج

«

اسلام کی بنیاد
اسلام کی بنیاد
بسم اللہ الر حمٰن الرحیم
زکوٰۃ

زکوٰۃ کے لغوی معنی پاک کرنے کے ہیں اور اصطلاحِ شرع میں اس مال کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے محض اس کو خوش کرنے کے لئے ہر سال یا ہر فصل پر ایک خاص شرح سے بیت المال میں جمع کیا جائے۔ اس مال کو زکوٰۃ اس لئے کہتے ہیں کہ اس کا دینا مال کو پاک وطیّب بنادیتا ہے۔

زکوٰۃ اسلام کا تیسرا رکن ہے۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر کثرت کے ساتھ نماز کے ساتھ آتا ہے۔ اگر کافر ایمان کا دعوٰی کریں اور نماز پڑھنے لگیں تب بھی ان سے جنگ بند نہیں ہوگی جب تک وہ زکوٰۃ ادا نہ کریں۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے

پھر جب(امن یا صلح کی مدّت گزر جائےاور)حُرمت والے مہینے بھی گزر جائیں تو مشرکین کو جہاں پاؤ قتل کرو،ان کو گرفتار کرو، ان کا محاصرہ کرو اور ہر گھات کے مقام پر ان کی گھات میں بیٹھے رہو، ہاں اگر وہ (کفرسے)توبہ کرلیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کاراستہ چھوڑدو(یعنی جنگ بند کردو) بے شک اللہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والاہے۔

۔(سورۃ التوبہ - 5)۔

زکوٰۃ کی ادائیگی کے بعد ہی کوئی شخص اسلامی معاشرہ میں دوسرے مؤمنین کے ساتھ اسلامی رشتہءاخوّت میں منسلک ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تو وہ دینی بھائی کی حیثیت حاصل نہیں کرسکتا۔

اللہ تعالٰی فرماتا ہے

۔(یہ مشرکین)مؤمن(کے معاملہ)میں نہ قرابت کا لحاظ کرتےہیں اور نہ عہدوپیمان کا اور یہی وہ لوگ ہیں جو (عدل و انصاف کی تمام حدوں سے) تجاوز کر جاتےہیں۔ لیکن(اے ایمان والو)اگر یہ توبہ کرلیں،نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو پھر یہ تمہارےدینی بھائی ہیں(پھر ان سے کسی قسم کا تعرّض نہ کرو) سمجھنے والوں کے لئے ہم اپنے احکامات کو علیٰحدہ علیٰحدہ بیان کررہے ہیں(تاکہ ان کے سمجھنے میں کسی قسم کی الجھن نہ ہو)۔

۔(سورۃ التوبہ - 10،11)۔

مندرجہ بالاآیات سے معلوم ہواکہ اگر کوئی شخص‌زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تو اس کا ایمان لانا اور نماز پڑھنا اس کی جان و مال کے تحّفظ کے لئے کافی نہیں اور نہ اسے دینی بھائی سمجھا جائے گا۔

ایمان کا تعلق عقیدہ سے ہے، نماز کا تعلق جسم سے ہے اور زکوٰۃ کا تعلق مال سے ہے، زکوٰۃ اسلام کے سیاسی و معاشی نظام کی بنیاد ہے۔ زکوٰۃ ہی سے جنگ کےلئے سازو سامان فراہم کیا جاتا ہے اور زکوٰۃ ہی سے مسلمین کے معاشی نظام کو مستحکم کیا جاتا ہے گو یا زکوٰۃ اسلامی حکومت کی بقاء کی ضامن اور اسلامی اخوّت اور ہمدردی کا عملی مظاہرہ ہے۔