دین اسلام
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

حالاتِ قبل نبوّت

ولادت و نسَبْ
رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ ۵۳؁ قبل ہجرت بروز دو شنبہ تولد ہوئے(۱)۔ آپؐ نہایت عالی نسب تھے(۲)۔ آپؐ کا سلسلۂ نسب  نضر بن کِنَانہ، پھر مضر(۳) اور پھر حضرت اسمائیل علیہ السّلام سے جا ملتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اولادِ اسمائیلؑ میں سے کِنانہ کو منتخب کیا۔ کِنانہ میں قریش کو منتخب کیا۔ قریش میں بنو ہاشم کو منتخب کیا اور بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب کیا(۴)۔ قریش کے تمام خاندانوں سے آپ کی قرابت تھی(۵)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کا نام عبد اللہ تھا
(۶)۔ دادا کا نام عبدالمطّلب تھا(۷)۔ والدہ کا نام آمنہ تھا(۸)۔ آپؐ جب پیدا ہوئے تو آپ کے والد کا انتقال ہو چکا تھا(۸)۔

مندرجہ آیت میں اِسی طرف اشارہ ہے۔

کیا اللہ نے آپ کو یتیم نہیں پایا پھر آپ کو ٹھکانہ دیا۔[الضحّےٰ]۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اِسم مُبارک

گھر والوں نے آپؐ کا نام محمّدؐ رکھا(۹)۔


۔(۱)صحیح بخاری باب الہجرۃ و صحیح مسلم کم اقام بمکۃ عن ابن عباسؓ و کتاب الصّیام عن ابی قتادۃ ؓ (دوشنبِہ کا ذکر صرف صحیح مسلم میں ہے)۔

۔(۲)صحیح بخاری کتاب الوحی عن ابی سفیانؓ۔

۔(۳)صحیح بخاری ابواب المناقب عن زحیبؓ۔

۔(۴)صحیح مسلم ابواب الفضائل عن واثلہؓ۔

۔(۵)صحیح بخاری ابواب المناقب عن ابن عباسؓ۔

۔(۶)صحیح بخاری کتاب الصّلح عن براءؓ۔

۔(۷)صحیح مسلم کتاب الجہاد باب روالمہاجرین الی انصار منا حٔہم عن انسؓ۔

۔(۸)صحیح مسلم کتاب الجہاد باب روالمہاجرین الی انصار منا حٔہم عن انسؓ۔

۔(۹)صحیح مسلم کتاب الحیض باب بیان صفۃ سنی الرّجال و المراٰۃ عن ثوبانؓ۔


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

۔(۱)صحیح بخاری ابواب المناقب باب ماجاء فی اسماء النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن جُبیرؓ و صحیح مسلم ابواب الفضائل و اللفظ لمسلم۔

۔(۲)صحیح بخاری ابواب المناقب باب الکنیۃ عن انسؓ۔

۔(۳)صحیح بخاری کتاب النکاح و صحیح مسلم کتاب النکاح عن اُمَ حبیبہؓ۔

۔(۴)صحیح مسلم باب الاسراء(جِلد اوّل)

۔(عـ)حضرت حلیمہؓ۔

اور یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے زیادہ مشہور نام ہے۔ قرآن مجید میں چار جگہ اللہ تعالیٰ نے اس نام کا ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔


اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور اُس چیز پر بھی ایمان لائے جو محمّدؐ پر نازل کی گئی ہے اور وہ اُن کے ربّ کی طرف سے حق ہے۔ ایسے لوگوں کے گناہ مٹادئے جائیں گے اور اُن کی حالت کی اصلاح کردی جائے گی۔(محمد – ۲)۔


محمّدؐ اللہ کے رسول ہیں(فتح – ۲۹)۔



(لوگو) محمّدؐ تمہارے مَردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں۔ وہ تو اللہ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔(احزاب – ۴۰)۔


دوسرا مشہور نام احمدؐ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں، میرا نام محمّدؐ بھی ہے اور احمد بھی(۱)۔ قرآن مجید میں یہ نام صرف ایک جگہ آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

اور (وہ وقت یاد کرو) جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں۔ مجھ سے پہلے جو کتاب توریت نازل ہوئی ہے اس کی تصدیق کرتا ہوں اور بشارت دیتا ہوں کہ میرے بعد ایک رسول آئے گا جس کا نام احمدؐ ہوگا۔(صف – ۶)۔



رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کُنیت ابوالقاسم تھی(۲)۔


رضاعت و شقّ صَدر 


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تولّد ہوئے تو ثویبہ نے ابو لہب کی آذاد کردہ لَونڈی تھیں آپکوؐ دودھ پلایا(۳)۔ پھر ایک اور دائی نے آپکوؐ دودھ پلایا(عـ)۔ انہی دائی کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش ہوئی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بڑے ہوئے تو ایک عجیب و غریب واقع پیش آیا۔ آپؐ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ اسی اثناء میں حضرت جبرائیلؑ آئے انہوں نے آپکو پکڑا اور چِٹ لِٹایا۔ پھر دل کو باہر نکالا اور اُس کو چیرا۔ دل میں سے خون کی ایک تُھپکی نکالی اور کہا کہ یہ تمہارے جسم میں شیطان کا حصّہ تھا۔ پھر سونے کے ایک طشت میں آبِ زم زم سے دل کو دھویا۔ پھر اُسے جوڑا اور اُس کے مقام پر رکھ دیا۔ بچّے یہ واقع دیکھ کر دوڑتے ہوئے آپؐ کی رضائی والدہ کے پاس گئے اور کہا بے شک محّمد قتل کردئے گئے۔ یہ سُن کر سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوئے۔ اُس وقت آپؐ کے چہرِے کی رنگت بدلی ہوئی تھی۔

بچپن

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش حضرت اُمِّ ایمنؓ کے سپرد ہوئی جو حبشہ کی رہنے والی تھیں اور آپؐ کے والد عبداللہ کی لونڈی تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے ہوئے تو آپؐ نے انہیں آذاد کردیا(۱)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کے زمانہ میں ایک زبردست سیلاب آیا(۲)۔ اِس سیلاب کی وجہ سے کعبہ کو نقصان پہنچا اور آئندہ مزید نقصان پہچنے کا اندیشہ تھا۔ لہٰذا کعبہ کو ازسرِ نو تعمیر کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی پتّھر اُٹھا اُٹھا کر لا رہے تھے۔ آپ ایک تہبند باندھے ہوئے تھے۔ آپؐ کے چچا حضرت عباسؓ بھی تعمیر میں شریک تھے۔ حضرت عباسؓ نے آپ سے کہا کہ اے بتیجھے تہبند اُتار کر اپنے کندھوں اور گردن پر رکھ لوتا کہ پتھر رکھنے سے تکلیف نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ ایسا کرنا تھا کہ آپؐ بر ہوش ہوکر زمین پر گِرپڑے۔ آنکھیں آسمان کی طرف چڑھ گئیں۔ پھر جب آپ کو ذرا افاقہ ہوا تو آپؐ نے فرمایا میرا تہبند، میرا تہبند۔ پھر آپؐ نے فورًاتہبند باندھ لیا۔ اس کے بعد پھر کبھی آپؐ کو برہنہ نہ دیکھا گیا(۳)۔

خرچ کی کمی کے باعث قریش نے کعبہ کی عمارت میں کمی کردی اور حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی بنیادوں پر اس کی تعمیر نہیں کی۔ ایک دیوار کو اس میں شامل نہیں کیا۔ دروازِہ کو سطح زمین سے اونچا کردیا تاکہ جس کو چاہیں اندر داخِل ہونے دیں اور جس کو چاہیں روک دیں(۴)۔


جوانی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ عرصہ بکریاں چرائیں۔ آپؐ فرماتے تھے’’کیا کوئی ایسا نبی ہے جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں(۵)؟‘‘ بچپن ہی سے آپؐ اوصاف حمیدہ کے حامِل تھے۔ نبوت سے پہلے کی ساری زندگی تمام بُرائیوں سے پاک تھی۔ رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آتے تھے۔ معاشرہ پر جو لوگ بار سمجھے جاتے تھے ان کا بوجھ آپؐ اُٹھاتے تھے۔ غریبوں، فاقہ کشوں کے لئے آپؐ کماتے تھے۔ مہمانوں کی خاطر تواضع کرتے تھے۔ حق کے کاموں میں لوگوں کی مدد کرتے تھے۔ سچ بولتے تھے۔ بد عہدی نہ کرتے تھے(۶)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیر اللہ کے آستانوں پر ذبح کئے ہوئے جانور کا گوشت نہ کھاتے تھے۔ ایک مرتبہ بلدح کے نشیب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات زید بن عمر وبن نُفیل سے ہوئی۔ آپؐ کے سامنے ایک دسترخوان رکھا گیا۔ آپؐ نے اُس میں سے کھانے سے انکار کردیا۔ پھر وہ دسترخوان زید کے سامنے کیا گیا تو اُنہوں نے فرمایا ’’میں بھی تمہارے آستانوں پر ذبح کئے ہوئے جانور نہیں کھاتا۔ میں تو صرف اس جانور کا گوشت کھاتا ہوں جو صرف اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو(۷)۔

اس واقع سے معلوم ہواکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلِ نبوت ہی شرک اور بُت پرستی کی تمام آلا ئشوں سے پاک تھے۔


شادی

نبوّت سے پہلےہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی حضرت خدیجۃؓ بنت خُویلد سے ہو چکی تھی(۸)۔

یہی وہ زوجۂ مطہرّہ ہیں جن سے آپؐ کی اولاد ہوئی(۹)۔


۔(۱)صحیح مسلم کتاب الجہاد باب روالمہاجرین الی الانصار منا ئحم عن انسؓ۔

۔(۲)صحیح بخاری ابواب المناقب باب ایّام الجا ہلیۃ عن جدّ سعید بن المسیبؓ۔

۔(۳)صحیح بخاری ابواب المناقب باب بنیان الکعبۃ وکتاب الصّلوٰۃ باب کرامیۃ التّعری فی الصّلوٰۃ۔

۔(۴)صحیح مسلم کتاب الحج باب نقص الکعبۃ وبنائہا۔

۔(۵)صحیح بخاری کتاب بدءالخلق باب لیکفون علےٰ اصنام لہم عن جابرؓ۔

۔(۶)صحیح بخاری کتاب بدء الوحی عن عائشۃؓ وابی سفیانؓ و کتاب التفسیر سورۂ اقرأ و صحیح مسلم باب بدءالوحی جِلد اوّل عن عائشۃؓ۔

۔(۷)صحیح بخاری ابواب المناقب باب حدیث زید بن عمر و عن ابن عمرؓ۔

۔(۸)صحیح بخاری کتاب بدء الوحی عن عائشۃؓ۔

۔(۹)صحیح بخاری باب تزدیج النبی صلی اللہ علیہ وسلم خدیجۃؓ(ابواب المناقب)۔


۔(۱)صحیح بخاری کتاب المنازی باب فتح مکّہ و صحیح مسلم فتح مکّہ باب ازالۃ الاصنام۔ عـ صحیح بخاری کتابُ التفسیر(سُورۃ نوحؑ)

۔(۲)صحیح بخاری کتاب فرض الخمس باب الجزیۃ۔ عـ صحیح مسلم کتابُ التفسیر۔

۔(۳)صحیح بخاری کتاب المغازی باب و فد بنی حنیقہ عن ابی رجاء۔


نبوّت سے قبل مُعَاشرہ کی حالت

تمام دنیا میں اَبتری پھیلی ہوئی تھی۔

خُشکی و تَری میں کوئی جگہ باقی نہیں رہی تھی جہاں لوگوں کی بد اعمالی کی وجہ سے فساد نہ پھیلا ہو۔(روم – ۴۱)۔

جنگ و خونریزی اِتنی عام تھی کہ حُرمت والے مہینوں کو محض جنگ کے خاطر آگے پیچھے کرلیا کرتے تھے۔(توبہ – ۳۷)۔

لڑکیوں کو باعث عار سمجھا جاتا تھا اور انہیں بہت سے لوگ زندہ دفن کردیا تھے۔(نحل – ۵۹ – انعام – ۱۳۷)۔

بعض لوگ محض مفلِسی سے خوف سے اولاد کو قتل کردیا کردیا کرتے تھے۔(اسراء – ۳۱)۔

یتیم کی معاشرہ میں کوئی عزّت نہیں کرتا تھا۔ مساکین کو کھلانے پلانے کی ترغیب نہیں دیتے تھے۔ میراث کے مال کو ناجائز طریقہ پر سمیت کر کھا جایاکرتےتھے۔(الفجر – ۱۹ تا ۱۷)۔

شرک و بُت پرستی کا دَوردَور تھا۔ چَوپایوں اور کھیتوں کے ایک حصّہ کو اللہ کی نذر کرتے اور ایک حصّہ کو اپنے شُرکاء کی نذر کرتے۔(انعام – ۱۳۹)۔

چوپایوں اور کھیتی میں سے بعض کو حرام کرار دیا کرتے اور اپنی مرضی سے جس کو چاہتے کھانے کی اجازت دیتے اور جس کو چاہتے اِجازت نہ دیتے۔ بعض جانوروں پر سواری کرنے کو حرام قرار دیا کرتے۔ بعض جانوروں کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیا کرتےتھے۔(انعام – ۱۳۸)۔

مادہ جانوروں کے پیٹ میں جو بچے ہوتے انہیں عورتوں پر حرام کردیا کرتے۔ اگر بچہ مرا ہوا پیدا ہوتا تو مرد و عورت سب مل کر اُسے کھایا کرتے۔

۔(النعام - 139)۔

اللہ اکیلے  کو پُکارا جاتا تو اس کا انکار کرتے اور اگر اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک کیا جاتا تو اس کو تسلیم کرتے۔ اِسی شِرک کو ایمان سمجھ رکھا تھا۔(مؤمن – ۱۲)۔

کعبہ کے اندر چاروں طرف ۳۶۰ بُت رکھ چھوڑے تھے(۱)۔  

جب سمندر میں سفر کرتے تو صرف اللہ کو پکارتے اور جب خُشکی میں واپس آجاتے تو پھر اللہ کے ساتھ شِرک کرتے تھے۔(عنکبوت – ۶۵)۔

بعض قبائل حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ کے بتوں کی پُوجا کرتے تھے(عـ)۔

درختوں اور پتھّروں کی بھی پوجا کرتے(۲)۔

اگر کسی پتھر کی پوجا کرتے کرتے دوسرا پتھر اس سے بہتر مل جاتا تو پہلے پتھر کو پھینک دیتے اور دوسرے پتھر کو پوجنے کے لئے لے لیتے۔ اگر پتھر نہ ملتا تو مٹی کا ایک دھیڑ بناتے پھر اُس پر بکری کا دودھ دوہتے پھر اُس کا طواف کرتے(۳)۔ بعض لوگ جِنّات کی بھی پرستش کرتے تھے(عـ)۔

۔(۱)صحیح مسلم کتاب الحج باب فی الوقوف۔

۔(عـ۱)قرآن مجید میں جگہ جگہ یہودیوں کے مغضوب ہونے کی صراحت ہے۔

۔(عـ۲)قرآن مجید میں نصارٰی پر لعنت کئے جانے کا ذکر صراحت سے موجود ہے۔ عیسائیوں کے سنجیدہ علماء اس کے معترف تھے۔


اُن کی نماز یہ تھی کہ بیت اللہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے۔(انفال – ۳۵)۔

عورتیں بناؤ سنگھار کرکے بے پردہ پھرتی تھیں۔(احزاب – ۳۳)۔ حتّٰیٰ کہ مَرد و عورت کعبِہ کا طواف برہنہ ہو کر کرتے۔ صرف قریش کپڑے پہن کر طواف کرتے تھے یا جس کو وہ کپڑے پہننے کے لئے دے دیں تو وہ اُن کپڑوں میں طواف کرلیا تھا(۱)۔

اہل کتاب کی حالت بھی کچھ عام لوگوں سے مختلف نہیں تھی۔ یہودی کے بعض گروہ حضرت عُزیر علیہٰ السّلام کو اللہ کا بیٹا سمجھتے اور عیسائی عمومًا حضرت عیسٰی علیہٰ السّلام کو اللہ کا بیٹا مانتے۔ اکثر عیسائی حضرت عیسٰی علیہ السّلام کو اللہ سمجھتے بلکہ بعض تین معبودوں کے قائل تھے۔(مائدہ – ۷۲ و۷۳ –  توبہ – ۳۰)۔

اہلِ کتاب نے اپنی  الہامی کتابوں میں تحریف کرلی تھی۔ بعض اپنے ہاتھ سے کتاب لکھتے اور کہتے یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اس شریعت سازی کے ذریعہ روپیہ حاصل کرتے۔(بقرہ – ۷۹) کتابِ الہٰی میں سے بہت سی باتوں کو چھپالیا کرتے تھے۔(مائدہ - ۱۵)۔

ہدایت معدوم ہوچکی تھی۔ ان کے سنجیدہ علماء خود اس کا اقرار و اعتراف کرتے تھے۔ مندرجہ ذیل واقعہ اس پر کُھلی شہادت ہے۔

زید بن عمرو بن نُفَیل غیر اللہ کے نام پر ذبح کئے ہوئے جانوروں اور بتوں کے آستانوں پر ذبح کئے ہوئے جانوروں کا گوشت نہیں کھایا کرتے تھے۔ ان ذبحیوں کے سلسلہ میں قریش پر بہت تنقید کرتے تھے۔ وہ کہتے اللہ نے اُسے پیدا کیا، اُس ہی نے اس کے لئے آسمان سے پانی برسایا۔ اللہ نے ہی اس کے لئے چارہ اُگایا۔ پھر تم کیوں اس کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرتے ہو۔ غرض یہ کہ کفّار کی ان باتوں سے پریشان ہوکر وہ دینِ حق کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ ملکِ شام پہنچے۔ ایک یہودی عالم سے ملاقات ہوئی۔ اس سے یہودیوں کے دین کے متعلق دریافت کیا۔ کہنے لگے مجھے اپنے دین کے متعلق کچھ بتاؤ شاید میں تمھارا دین قبول کرلوں۔ یہودی عالم نے کہاتم ہمارے دین پر نہیں ہوسکتے جب تک اللہ کا غضب نہ حاصل کرلو(عـ۱)۔ زید نے کہا میں تو اللہ کے غضب ہی سے تو بھاگتا پھرتا ہوں اور میں کبھی بھی اللہ کا ذرا سا بھی غضب برداشت نہیں کر سکتا۔ اور نہ میں اس کی استطاعت رکھتا ہوں تو کیا تم مجھے کوئی اور دین بتاؤن گے؟ یہودی عالم نے کہا تم حنیف ہوجاؤں۔ زید نے پوچھا حنیف کیا ہوتا ہے۔ اُس نے کہا دینِ ابراہیم علیہ السّلام نہ یہودی تھے نہ عسائی  اور وہ سوائے اللہ کے کسی کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ پھر زید وہاں سے چلے آئے اور ایک عسائی عالم کے پاس پہنچے۔ اُس سے دین کے متعلق سوال کیا۔ اُس سے دین کے متعلق سوال کیا۔اُس نے کہا اگر تم ہمارے دین کو اختیار کروگے تو اللہ کی لعنت میں سے اپنا حصّہ ضرور حاصل کروگے(عـ۲)۔ زید نے کہا میں تو اللہ کی لعنت ہی سے بھاگ رہا ہوں۔ میں اللہ کی لعنت میں سے ذراسی بھی لعنت کا متحمل نہیں ہوں اور نہ میں اس کی طاقت رکھتا ہوں۔ کیا تم مجھے کوئی اور دین بتاؤن گے۔ عسائی عالِم نے کہا تم حنیف ہوجاؤ۔ زید نے پوچھا حنیف کیا ہوتا ہے؟ اُس نے کہا ابراہیم علیہ السلام کا دین جو نہ یہودی تھے نہ عسائی

۔(۱)صحیح بخاری ابواب المناقب باب حدیث زیدبن عمرو بن نُفیل۔(صـ)اسکی تشریح ہم آگے معراجِ جسمانی کے ذیل میں بیان کریں گے۔

۔(۲)صحیح بخاری کتاب بدوالخلق باب کان النبّی صلی اللہ علیہ وسلم تنام عینہ دلاینام قلبہ و صحیح مسلم باب الاسراء جلد اوّل نحوہٗ۔


اور نہ وہ اللہ کے علاوہ کسی عبادت کرتے تھے۔ جب زید نے ابراہیم علیہٰ السلام کے دین کے متعلق ان عالموں کی گفتگوں سُنی تو وہاں سے باہر چلے آئے اور دونوں ہاتھ اُٹھا کر کہا۔ ’’ اے اللہ میں تجھے گواہ کرتا ہوں کہ میں دین ابراہیمؑ پر ہوں(۱)۔



آثارِ نبوّت


معراج فی المنام

نبوّت سے پہلے ایک رات کو یہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ کعبہ میں سورہے تھے کہ یکا یک تین شخص آئے۔ پہلے شخص نے کہا وہ کونسے ہیں۔ بیچ والے نے کہا وہ ان سب میں بہتر ہیں۔ آخری شخص نے کہا ان میں جو سب سے بہتر ہیں ان کو لے لو۔ پھر وہ دکھائی نہیں دئے۔ دوسری رات کو پھر آئے(آپؐ سورہے تھے لیکن) آپؐ کا قلب جاگ رہا تھا اور (نہ صرف اُس وقت بلکہ ہمیشہ) آپؐ کی آنکھیں ہی سوتی تھیں، دل نہ سوتا تھا۔ پھر جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان پر لیجانے کا کام اپنے ہاتھ میں لیا(۲)۔ 

ان فرشتوں نے آپؐ سے کوئی بات نہ کی۔ آپؐ کو اُٹھایا اور زمزم کے کنوئیں پر لٹادیا۔ پھر حضرت جبرائیلؑ نے آپؐ کا سینہ چیرا اور سینہ اور پیٹ کی تمام کو اُلٹ دیا۔ پھر زمزم کے پانی سے پیٹ کو اپنے ہاتھ سے صاف کیا۔ پھر سونے کا طشت لایا گیا۔ جس میں سونے کا ایک برتن رکھا ہوا تھا۔ یہ برتن ایمان اور حکمت سے بھرا ہو ا تھا۔ حضرت جبرائیل نے اُن چیزوں کو سینہ میں حلق تک بھر دیا۔ پھر سینہ کو ٹھیک کردیا۔ پھر آپؐ کو آسمان دنیا کی طرف لے کر چلے۔ دروازہ کھٹکھٹایا اہل آسمان نے کہا کون ہے؟حضرت جبرائیل نے کہا ’’میں جبرائیل ہوں‘‘انہوں نے پوچھا تمہارے ساتھ کون ہے۔ جواب دیا ’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ہیں۔ پوچھا کیا یہ معبوث ہوئےہیں۔ جواب دیا ’’ہاں‘‘۔ ان لوگوں نے مرحبا کہا اور خوش آمدید کہی۔ اگرچہ آسمان والولے آپ کی آمد کی خبر پہلے سے سُنتے آئے تھے(لیکن انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا علم نہ تھا) کیوں کہ جوکام اللہ تعالیٰ زمین میں کرتا رہتاہے آسمان والوں کو اس کی کچھ خبر نہیں ہوتی جب تک اللہ اُن کو خبر نہ دے۔ الغرض آسمانِ دنیا پر آدم علیہ السلام سے مُلاقات ہوئی۔ حضرت جبرائیلؑ نے کہا یہ آپ کے باپ ہیں۔ ان کو سلام کیجئے۔ آپؐ نے سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا اے بیٹے تم کو مرحبا اور خوش آمدید۔ تم اچھے فرزند ہو۔ پھر آسمان پر آپؐ نے دونہرے بہتی ہوئی دیکھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا’’اے جبرائیل یہ کون سی نہریں ہیں؟‘‘انہوں نے کہا یہ نیل اور فرات کا منبع ہیں(صـ)۔ پھر حضرت جبرائیلؑ نے آپؐ کو آسمان کی سیر کرائی۔ آپؐ نے ایک اور نہر دیکھی جس پر موتی اور زبرجد کے محل بنے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مٹے پر ہاتھ مارا تو معلوم ہوا کہ وہ مُشک ہے۔ پھر دوسرے آسمان پر گئے۔ پھر تیسرے، چوتھے، پانچویں، چھٹے اور ساتویں آسمان پر آپؐ کولیجایاگیا۔ ہر آسمانوں پر دربانوں سے اُسی قسم کی گفتگو ہوئی۔ ہر آسمان میں انبیاء علیہم السلام سے ملاقات ہوئی۔ دوسرے آسمان پر ادریس علیہ السلام سے، چوتھے میں ہارون علیہ السلام سے، چھٹے میں ابراہیم علیہ السلام سے اور ساتویں میں موسیٰ علیہ السلام سے۔ (ساتویں آسمان پر موسیٰ علیہ السلام کو اس لئے فائز کیا گیا تھا کہ) اُن کو اللہ تعالیٰ سے کلام کرنے کی فضلیت ملی تھی۔ موسیٰ علیہ اسلام نے فرمایا’’اے ربّ میں سمجتا تھا کہ مجھ سے اُوپر کوئی نہیں جائے گا‘‘ پھر اس مقام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا بلند کیاگیا

۔(۱)یہ ضروری نہیں کہ خواب میں جو کچھ دیکھا جائے تعبیر بھی اُس کی ہو بہوویسی ہی ہو۔ تعبیر مختلف ہوسکتے ہے۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ ایک سیاہ فام عورت مدینۂ منوّرہ سے نکل کر جحفہ چلی گئی۔ آپؐ نے فرمایا اس کی تعبیر یہ ہے کہ مدینہ کی وبا جحفہ منتقل ہوگئی۔ مندرجہ بالا خواب میں جو قربت اللہ تعالیٰ سے دکھائی گئی تھی اُس کی تعبیر اس طرح پوری ہوئی کہ حضرت جبرائیلؑ وحی الہیٰ لیکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنے قریب ہوئے جیسے دوکمان کا فاصلہ بلکہ اس سے بھی کم اور پھر سورۂ مدثرّ کی ابتدائی آیات نازل ہوئی۔ یہ تمام تفصیلات آگے آرہی ہیں۔

۔(۲)صحیح بخاری کتاب التوحید باب قولہ و کلم اللہ موسیٰ تکلمًا عن انس بن مالکؓ۔


کہ اس کی حد کو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا یہاں تک کہ سدرۃ المنتہےٰ پہنچے۔ اللہ ربُّ العزّت آپؐ سے قریب ہوا اور اس قدر قریب ہوا کہ دو کمانوں کے درمیانی فاصلہ کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم(۱)۔ پھر اللہ نے آپؐ پر وحی کی۔ منجملہ اور احکام کے اُس وحی میں یہ بھی حکم تھا کہ آپ کی اُمّت پر پچاس نمازیں فرض کیجاتی ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے آئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے رسول اللہ علیہ وسلم کو دوک لیا۔ انہوں نے پوچھا آپؐ کے رب نے آپؐ سے کس بات پر عہد لیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دن رات میں پچاس نمازیں پڑھنے کا عہد لیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا آپؐ کی اُمّت اِس کی طاقت نہیں رکھتی۔ آپ واپس جائیں آپ کا رب اس میں تخفیف کردے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیلؑ کی طرف دیکھا گویا کہ اُن سے مشورہ لے رہے ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام نے مشورہ دیا کہ اگر آپؐ تخفیف چاہتے ہیں تو درخواست میں کر نے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے پاس گئے اور اُسی مقام پر پہنچ گئے جہاں پہلے پہچے تھے۔ آپؐ نے عرض کیا’’اے رب ہم سے تخفیف فرماکیونکہ میری اپمّت اس کی طاقت نہیں رکھتی‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے دس نمازیں کم کردیں۔ پھر آپ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے۔ موسیٰ علیہ السلام برابر آپ کو واپس کرتے رہے یہاں تک کہ پانچ نمازیں رہ گئیں۔ پھر موسیٰ علیہ السلام نے آپ کو روک لیا اور کہا ’’اےمحمدؐ میں اپنی قوم بنی اسرائیل کی اِس سے کم پر آزمائش کرچکا ہوں، انہوں نے کمزوری دکھائی، نمازیں چھوڑدی اور آپؐ کی اُمت تو جسم، قلب، بدن، بصارت، سماعت ہر لحاظ سے ان کے مقابلہ مین کمزور ہے۔ لہٰذا آپؐ پھر واپس جایئں۔ آ کا رب تخفیف کردے گا۔‘‘ ہر مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرائیل کی طرف متوجہ ہوتے تھے اور ان سے مشورہ لیتے تھے اور جبرائیل علیہ السلام مشورہ کو ناپسند نہیں کرتے تھے۔ جبرائیل علیہ السلام آپؐ کو پھر اُپر لے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کیا۔’’اے ربّ، میری اُمت کے جسم، دل، سماعت اور بدن سب کمزور ہیں پس ہم پر تخفیف فرما‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا’’اے محمدؐ‘‘ آپؐ نے کہا ’’لبیک و سعد یک‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا،’’میرے ہاں بات نہیں بدلتی، میں نے جو تم پر فرض کیا ہے لوح محفوظ میں وہی لکّھا ہوا ہے‘‘۔ پھر فرمایا ’’ہر نیکی کا بدلہ دس نیکی ہوتا ہے لہٰذا وہ لوح محفوظ میں پچاس ہیں‘‘۔ واپسی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا’’کیا کرکے آئے ہو‘‘ آپؐ نے فرمایا اللہ نے ہم پر تخفیف کردی ہے ہمیں ہر نیکی کا بدلہ دس گناہ عطافرمایاہے‘‘۔ واللہ میں نے بنی اسرائیل سے اس سے کم کا مطالبہ کیا تھا لیکن اُس کو بھی وہ پورا کر نہ سکے، (نماز چھوڑ بیٹھے) آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیے وہ اور کمی کردے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اے موسیٰ، اللہ کی قسم مجھے باربار جانے سے اب شرم محسوس ہوتی ہے‘‘۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تو پھر اللہ کا نام لے کر اُترو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پھر میں جاگا تو مسجدِ حرام ہی میں تھا(۲)۔

مزید اور معلومات حاصل کرنے کے لئے ڈاؤن لوڈ کریں تاریخ الاسلام و المسلمین