صلوٰۃ(نماز) ادا کرنے کا طریقہ

«

غسل کرنے کا طریقہ

«

ذکوٰۃ ادا کرنے کا طریقہ

«

صوم(روزہ) رکھنے کا طریقہ

«

وضو کرنے کا طریقہ

«

عملی طریقہ
دین اسلام
ڈاؤن لوڈ سینٹر
بسم اللہ الر حمٰن الرحیم
صلوٰۃ ادا کرنے کا طریقہ
پہلی رکعت

قیام
جب صلٰوۃ ادا کرنے کھڑا ہو تو اپنی زینت کی چیزیں پہن لے یعنی اچھا صاف سُتھرا کامل لباس پہن لے۔
(سورۃ الاعراف-۳۱) – (رواہ الطبرانی فی الکبیر و اسنادہ حسن- مرعاۃ المفاتیح شرح مشکٰوۃ جلد اوّل ص۵۰۶)

1
پھر قبلہ کی طرف مُنہ کرے۔
(سورۃ البقرۃ- ۱۴۴)

2
سیدھا با ادب کھڑا ہوجائے۔
(سورۃ البقرۃ- ۲۳۷)

3
نہ اگے کی طرف جُھکے نہ پیچھے کی طرف بلکہ حالتِ اعتدال میں رہے۔
(ابوداؤد عن ابی حمید رجالہ ثقات(تقریب)و سندہ صحیح)۔

4
دونوں قدموں کو سیدھا اور برابر رکھے۔
(رواہ ابوداؤد عن  ابن زبیرؓ وسندہ حسن)

5
اگر فرض صلوٰۃ ہو تو اقامت کہے۔
(ابوداؤد عن رفاعۃؓ) رجالہ ثقات(تقریب) و رواہ الترمذی وحسنہ وصححّہ الذھبی(تعلیقات احمدشاکر علی الترمذی وصححہ الالبانی فی تعلیقاتہٖ علی المشکوٰۃ جزء اوّل ص۲۵۳)

6
پھر سر جھکالے۔
(رواہ الحاکم و صححّہ علیٰ شرط الشخین جلد ۲ ص۳۹۳ نیل الاوطار جزء۲ ص۱۵۹)

7
اور نگاہیں نیچی کرلے۔
(صحیح بخاری)

8
پھر دونوں ہاتھ اس طرح اُٹھائے کہ ہاتھ کندھوں کے سامنے یا کانوں کے اوپر کے حصّہ کے مقابل آجائیں۔
(صحیح مسلم من مالک)-(صحیح بخاری و صحیح مسلم عن ابن عمرؓ)

9
اگر چادر وغیرہ اوڑھے ہوئے ہوتو ہاتھوں کو چادر وغیرہ سے باہر نکال کر اٹھائے۔
(صحیح مسلم باب وضع الیمنٰی علی الیسری ۱/۱۷۱)

10
انگلیوں کو کھول، موڑے نہیں۔
(رواہ الترمذی عن ابی ھریرۃؓ) و صححہّ احمد محمّد شاکروقال تابع یحییٰ بن یمان شبابۃ و شبابۃ ثقہ (تعلیقات احمد محمّد شاکر علی الترمذی)

11
انگلیوں کو نہ بلکل ملالے اور نہ ان میں تفریق کرے۔
(صحیح ابن خزیمۃ عن ابی ھریرۃؓ) و سندہ صحیح(صحیح ابن خزیمۃ جزء اوّل ص۲۳۳،۲۳۴)

12
پھر اَللہُ اَکْبَرُ کہے۔
(صحیح بخاری و صحیح مسلم عن ابی ھریرۃ)

13
پھر سیدھے ہاتھ سے اُلٹے ہاتھ کو اس طرح پکڑے کہ سیدھے ہاتھ کا کچھ حصّہ اُلٹے ہاتھ کی پُشتِ کف پر ہو، کچھ پہنچے پر ہو اور کچھ کلائی پر یعنی سیدھے ہاتھ کو اُلٹی ذراع پر رکھ لے۔
(ابوداؤد عن وائل و سندہ صحیح)-(رواہ ابوداؤد واحمد عن وائل و سندہ صحیح- التعلیقات جزء اوّل ص۲۴۹) – (تسہیل القاری شرح صحیح بخاری جلد ۳ ص۸۳۸) – (صحیح بخاری عن سہلؓ)

14
اس طرح کرنے کے بعد ہاتھوں کو سینہ پر رکھ لے۔
(رواہ احمد عن ھلب و سندہ حسن و صححہّ ابن عبد الہر(تعلیقات احمد محمد شاکر علی الترمذی باب ماجاء فی الا نصراف و حسنہ الالبانی – التعلیقات جزء اوّل ص۲۵۲)

15
پھر یہ پڑھے:-

سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ وَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالیٰ جَدُّ کَ وَلَآ اِلٰہَ غَیْرُکَ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ، لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ، لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ۔ اَللہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا، اَللہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا، اَللہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا، اَعُوْذُ بِاللہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖ وَنَفْخِہٖ وَنَفْثِہٖ۔

ترجمہ:-

اے اللہ ! تو پاک ہے اور تو اپنی حمد کے ساتھ (تمام کمزوریوں سے منزّہ ہے) تیرا نام با برکت ہے، تیری بزرگی بلند ہے۔ تیرے سوا کوئی حاکم و معبود نہیں۔ اللہ کے علاوہ کوئی اِلہٰ نہیں، اللہ کے علاوہ کوئی اِلہٰ نہیں، اللہ کے علاوہ کوئی اِلہٰ نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے بزرگی والا، اللہ سب سے بڑا ہے بزرگی والا، اللہ سب سے بڑا ہے بزرگی والا۔ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتا ہوں جو سننے والا جاننے والا ہے شیطان مردود سے، اس کے خبط سے، اس کے تکبرّ سے، اس کی شعر و شاعری سے۔
(ابوداؤد عن رفاعہ و سندہ صحیح)-(نسائی و سندہ صحیح)-(ابوداؤد عن ابی سعید و صححہ اللبانی-تعلیقات جزء اوّل ص۲۵۸) و صححہ احمد محمّد شاکرفی تعلیقاتۃٖ علی الترمذی)۔

اس حدیث میں رات کا ذکر اس لئے ہے کہ وہ رات کو قریب کھڑے  ہوگئے ہوں گے۔ دن کو قریب کھڑا ہونا مشکل تھا۔ رات اور دن کی نمازوں میں کوئی فرق نہیں۔ مزید برآں تعوذ مرفوعًا صحیح سند سے صرف اسی حدیث میں ہے۔

16
پھر خفیہ آواز سے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ  پڑھے۔
(صحیح مسلم)

17
پھر سورۃ فاتحہ پڑھے۔ جہری رکعتوں جہر سے اور سِرّی رکعتوں میں خفیہ آواز سے یعنی صبح کے فرض کی دونوں رکعتوں اور مغرب اورعشاء کے فرض کی پہلی دو رکعتوں میں جہر سے قرأت کرے۔ ان رکعات کے علاوہ فرض صَلَوات کی تمام رکعتوں میں خفیہ آواز سے قرأت کرے۔
(صحیح بخاری و صحیح مسلم عن ابی ھریرۃ وغیرہ)

18
سنتوں اور نوافل میں خواہ بلند آواز سے قرت کرے خواہ خفیہ آواز سے۔
(رواہ الترمذی و صححّہ وفی الباب احادیث کثیرۃ)

19
سورۃ فاتحہ کے بعد جہری رکعتوں میں جہر سے اور سِرّی رکعتوں میں خفیہ آواز سے آمین کہے۔
(ابوداؤد عن وائل) صححہ الدَّار قطنی الحافظ العسقلانی(بلوغ الامانی جزء ۳ ص۲۰۵)والالبانی(التعلیقات جزء اوّل ص۲۶۷)

20
پھر کوئی دوسری سورت پڑھے، جہری رکعتو ں میں جہر سے اور سرّی رکعتوں میں خفیہ آواز سے۔
(صحیح بخاری و صحیح مسلم)-(رواہ احمد عن رفاعۃ-بلوغ جزء ۳ ص۱۵۶ اور وٰی نحوہ ابوداؤد و سندہ صحیح-التعلیقات للالبانی علی المشکوٰۃ جزء اوّل ص۲۵۳)

21
اگر دوسری سورت کو ابتداء سے پڑھے تو اس سے پہلے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ خفیہ آواز سے پڑھے۔
(صحیح مسلم)

22
فجر اور ظہر کی پہلی رکعت میں قرأت کو طول دے۔
(صحیح بخاری و صحیح مسلم عن ابی قتادۃ واللفظ لمسلم)

23
دوسری رکعت میں نسبتًا قرأت کم کرے۔
(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

24
فجر میں نسبتًا قرأت زیادہ کرے۔
(صحیح بخاری عن جابر بن سمرۃ)

25
ہر صلوٰۃ میں پہلی دورکعتوں میں آخری دو رکعتوں کے مقابلہ میں زیادہ قرأت کرے۔
(صحیح بخاری و صحیح مسلم عن جابر بن سمرۃ)

26
قرأت میں ہر حرف واضح ہو۔
(رواہ الترمذی فی ابواب فضائل قرآن عن امّ سلمۃ و صححّہ)

27
قرأت کھینچ کھینچ کر کرے۔
(صحیح بخاری کتاب فضائل قرآن)

28
قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ پڑھے۔ گھاس نہ کاٹے، ہر آیت پر وقف کرے۔
(رواہ احمد عن امّم سلمہؓ وروی الدّار قطنی وقال اسنادہ صحیح ورواتہٗ ثقات(وارقطنی ص۱۱۸)و روی نحوہٗ الترمذی فی ابواب القراءات و سندہٗ صحیح-مرعاۃ جزء ۴ ص۳۷۲)

29
قرأت خوش الحانی سے کرے۔
(صحیح بخاری کتابُ التوحید)

30
قرا٘ت کے بعد دونوں ہاتھ  اسی طرح اُٹھائے جس طرح ابتداء میں اُٹھائے تھے۔
(صحیح بخاری و صحیح مسلم عن ابنِ عمرؓ واللفظ لمسلم)

31


رکوع


پھر اَللہُ اَکْبر کہے اور رکوع کرے۔
(صحیح بخاری عن ابی ھریرہؓ)

1
اپنی ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھے۔
(رواہ ابوداوٗد عن ابی حمید و سندہٗ صحیح)

2
انگلیوں کو کشادہ کرے۔
(صحیح ابنِ خزیمۃ عم وائل جزء اوّل ص۳۰۱و سندہٗ صحیح)

3
اور ان کو پنڈلیوں پر رکھے۔
(احمد عن ابی مسعودؓ-سندہٗ صحیح)

4
پھر گھٹنو ں کو ہاتھوں سے مضبوطی کے ساتھ پکڑلے۔
(صحیح بخاری عن ابی حمیدؓ)-(صحیح مسلم جزء اوّل ص۳۱۷)

5
دونوں ہاتھوں کو کمان کے چلّے کی طرح تان لے۔
(صحیح مسلم عن عائشہؓ)-(صحیح بخاری عن ابی ھریرہؓ)

6
کہنیوں کو پہلوں کے علحٰیدہ رکھے۔
(صحیح مسلم عن عائشہؓ)-(صحیح بخاری عن ابی ھریرہؓ)

7
سرکو نہ جھکائے بلکہ پیٹھ کے برابر رکھے۔ رکوع میں اطمینان سے ٹھہر جائے یہاں تک کہ(کمروغیرہ)حالتِ اعتدال میں آجائے۔
(صحیح مسلم عن عائشہؓ)-(صحیح بخاری عن ابی ھریرہؓ)

8
پیٹھ کو بلکل سیدھا اور تنا ہوا رکھے۔
(رواہ احمد وابوداوٗد عن رفاعۃو سندہٗ صحیح-التعلیقات لللا لبانی علی المشکوٰۃ جزءاوّل ص۲۵۳)

9
پیٹھ کو اتنا ہموار کرلے کہ اگر پیٹھ پر پانی ڈالا جائے تو بہے نہیں۔
(رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابی مسعود رضی اللہ عنہ و سندہ حسن-بلوغ جزء۳ ص۲۵۸)

10
پھر رکوع میں کافی دیر تک سُبْحَانَ رَبِیَّ الْعَظِیْمِ (پاک ہے میرارب عظمت والا) پڑھتا رہے۔
(صحیح مسلم باب النھی عن قراءۃ القرآن فی الرکوع جزءاوّل ص۳۱۲)

11

قومہ
پھر سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ (جو اللہ کی تعریف کرتا ہے اللہ اس کی سن لیتا ہے) کہتا ہوا سر اُٹھائے۔
(صحیح بخاری عن ابی ھریرہؓ)

1
پھر سیدھا کھڑا ہوجائے، یہاں تک کہ ریڑھ کی ہڈّی ھالتِ اعتدال میں اپنی جگہ پر آجائے۔
(صحیح بخاری عن ابی الحمیدؓ)

2
سیدھا کھڑا ہوجانے کے بعد یہ ثناء پڑھے:-
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ
(اے اللہ! ہمارے رب! توہی ہر قسم کی تعریف کا مستحق ہے)
یا
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ پڑھے۔
(صحیح بخاری عن ابی ھریرۃ باب مایقول الامام و من خلفہ اذا رفع رأسہ من الرکوع)-(صحیح بخاری عن ابی ھریرۃ ؓ )

3
اور دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھائے جس طرح صلوٰۃ کے شروع میں اُٹھائے تھے۔ کمر کو نہ آگے جھکائے نہ پیچھے جھکائے بلکہ حالتِ اعتدال میں رکھے۔
(صحیح بخاری و صحیح مسلم عن مالک بن حویرث)

4
قومہ میں کافی دیر اطمینان سے کھڑارہے۔
(صحیح بخاری و صحیح مسلم عن انسؓ)

5
اور یہ ثناء پڑھے

مِلْءَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمِلْ ءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْءٍ بَعْدُ، اَھْلَ الثَّنَآءِ وَلْمَجْدِ اَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَکُلَّنَا لَکَ عَبْدٌ اَللّٰھُمَّ لَا مَا نِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَ االْجَدِّمِنْکَ الْجَدُّ۔

ترجمہ:-
(یہ تعریف تیرے لئے ہے)آسمانوں اور زمین کو بھرکر اور اس کے بعد اس چیز کو بھر کر جس کو تو بھر نا چا ہے۔ اے ثناء و بزرگی والے جو کچھ اس بندے نے کہا تو ہی اس کا حقدار ہے اور ہم سب تیرے بندے ہیں۔ اے اللہ! جو تو دے اُسے کو ئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اُسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی بزرگ شخص کی بڑائی اور بزرگی اس کو تیرے ہا ں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔

(صحیح مسلم باب مایقول اذا رفع رأسہ من الرّکوع عن ابی سعیدؓ - فی نسخۃ لمسلم مِلْ ءَ الْاَرْضِ)

6
کچھ دیر ہا تھ اٹھائے رکھنے کے بعد ہاتھوں کو چھوڑ دے اور لٹکنے دے پھر کچھ دیر تک اس حالت میں کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر گری ہوئی ہو کھڑا رہے۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ عن ابی حمید جزء اوّل ص ۲۳۵ و سندہٗ صحیح)

7

سجدہ
پھر اللہ اکبر کہتاہواسجدہ کے لئے جُھکے۔
(صحییح بخاری عن ابی ھریرۃ ؓ )

1
سجدہ میں پیشانی و ناک، دونوں ہاتھ، دونوں گٹھنے اور دونوں پیر کے پنجے زمین پر ٹکائے۔
(صحیح بخاری و صحیح مسلم عن ابن عباسؓ)

2
ہتھیلیاں اور اُنگلیاں نہ سمیٹے بلکہ اُن کو پھیلادے، انگلیوں کو ملا لے، کمر کو بلند رکھے۔
(رواہ ابوداؤد عن ابی حمید و سندہٗ صحیح)

3
اُنگلیاں قبلہ رُخ رکھے۔
(رواہ البہقی و سندہ صحیح – صلاۃ النبیؐ ص۱۲۳)

4
سر کو دونوں ہاتھوں کے درمیان رکھے۔
(صحیح مسلم عن وائل)

5
دونوں کہنیوں کو بلند رکھے۔
(صحیح مسلم عن البراء)

6
بغلوں کو کھلا رکھے۔
(صحیح بخاری و صحیح مسلم عن عبد اللہ بن مالک)

7
ہاتھوں،کلائیوں اور بازوؤں کو اتنا کشادہ رکھے کہ بکری کا بچّہ ان کے نیچے سے نکل سکے۔
(صحیح مسلم عن میمونۃؓ و سندہ ابی داؤد صحیح – التعلیقات جزء اوّل ص۲۸۰)

8
پیٹھ کو بلکل سیدھا رکھنے یعنی پیٹھ میں بلکل خم نہ ہو۔
(رواہ ابوداؤد عن ابی مسعودؓ و اسنادہٗ صحیح – نیل للاوطاء جلد ۲ صـ۲۱۲)

9
پیٹھ کو رانوں سے علحٰیدہ رکھے اور رانوں کے درمیان کچھ فاصلہ رکھے۔
(رواہ ابوداؤد عن ابی حمید و سندہٗ حسن)

10
بازوؤ کو پیٹ اور پہلوؤں سے علحٰیدہ رکھے۔
(صحیح بخاری عن ابی حمیدؓ)

11
قدموں کو کھڑارکھے۔
(صحیح مسلم عن عائشہؓ)

12
ایڑیوں کو ملالے۔
(صحیح ابن خزیمۃ جزء اوّل صـ۳۲۸وبہقی جلد ۲ صـ۱۱۶-اسناد صحیح – صحیح ابن خزیمۃ ۱/۳۲۸)

13
پیر کی انگلیوں کو موڑ کر قبلہ روکرلے۔
(صحیح بخاری عن ابی حمیدؓ)

14
اطمینان سے سجدہ کرے۔
(صحیح بخاری عن ابی ھریرۃ ؓ )

15
پھر کئی مرتبہ یہ دعا پڑھے۔



سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ۔

ترجمہ
اے اللہ! اے ہمارے رب! تو پاک ہے اور اپنی حمد کے ساتھ(بے عیب) ہے۔ اے اللہ! مجھے بخش دے۔
(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

16

جلسہ
پھر اللہ اکبر کہتا ہوا اپنا سر اُٹھائے۔
(صحیح بخاری و صحیح مسلم عن ابی ھریرۃ ؓ )

1
پھر اُلٹے پیر کو بچھا کر اس پر سیدھا بیٹھ جائے یہاں تک کہ ہر ہڈّی اپنی جگہ پر آجائے۔
(رواہ ابوداؤد عن ابی حمید و سندہٗ صحیح)

2
سیدھے ہاتھ کو سیدھے گھٹنے پر رکھے اور اُلٹے ہاتھ کو اُلٹے گھٹنے پر رکھے۔
(صحیح مسلم عن جابر بن سمرۃ ؓ )-(صحیح مسلم عن ابن عمرؓ)

3
ہاتھ کا کچھ حصّہ ران پر بھی ہو۔
(صحیح مسلم عن ابن الزبیرؓ)

4
اُلٹے ہاتھ کو اُلٹے گھٹنے اورپر پھیلا کر اُسے پکڑلے۔
(رواہ ابوداؤد عن ابی حمید – وسندہٗ صحیح)

5
سیدھے پیر کو کھڑا کرلے۔
(رواہ ابوداؤد عن ابی حمیدؓ و سندہٗ صحیح)

6
اور اسکی پُشت کو قبلہ کی طرف کرلے۔
(رواہ النسائی عن ابن عمرؓ و سندہٗ صحیح – صلاۃ النبی للالبانی صـ۱۶۱)

7
سیدھے ہاتھ کی کہنی کو تناہوا رکھے۔
(ابوداؤد – سندہٗ صحیح – التعلیقات ۱/۲۸۷)

8
سیدھے ہاتھ کے انگھوٹھے کو بیچ کی انگلی پر اس طرح رکھے کہ انگوٹھا انگشت شہادت کی جڑ کے قریب ہوا اور انگوٹھے اور بیچ کی انگلی سے حلقہ بن جائے، انگشتِ شہادت کو بلند کرکے(توحیدکا)اشارہ کرے، بیچ کی اُنگلی، چھوٹی انگلی اور اس کے برابر والی اُنگلی موڑلے۔
(صحیح مسلم عن ابن الزبیرؓ)

9
انگشتِ شہادت میں خفیف ساخم دے۔
(رواہ النسائی عن نمیرؓ و رجالہٗ ثقات)

10
اس کا رُخ قبلہ کی طرف رکھے۔
(رواہ ابن خزیمۃ عن ابن عمرؓ و سندہٗ صحیح – ابن خزیمۃ جزءاوّل صـ۳۵۵)

11
دُعا کے وقت اسے ہلاتا رہے۔
(رواہ احمد و النسائی عن وائل و سندہٗ جیّد-بلوغ جزء ۳ صـ۱۴۸)

12
کبھی انگلی کو ساکن بھی کردے۔
(رواہ ابوداؤد عن ابن ھریرہؓ و سندہٗ صحیح – مرعاۃ جلد دوم صـ۴۸۰)

13
اپنی نظر انگشتِ شہادت سے آگے نہ لے جائے۔
(رواہ ابوداؤد عن ابن ھریرہؓ و سندہٗ صحیح – مرعاۃ جلد دوم صـ۴۸۰)

14
اس جلسہ میں اطمینان سے بیٹھے۔
(صحیح بخاری عن ابی ھریرۃ ؓ )

15
اور کافی دیر تک بیٹھا رہے۔
(صحیح بخاری و صحیح مسلم عن انسؓ)

16
رکوع، قومہ، سجدہ اور جلسہ میں ٹھرنے کا وقت تقریبًا برابر ہو۔
(صحیح بخاری عن البراء)

17
اس جلسہ میں یہ دعا پڑھے

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَعَافِنِیْ وَاَھْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَارْفَعْنِیْ۔

ترجمہ

اے اللہ! میری مغفرت فرما، مجھ پر رحم فرما، ،میری(حالت کی) اصلاح فرما، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت پر چلا، مجھے رزق عطا فرما اور مجھے بلندی عطا فرما۔
(شرح ابن ماجۃ للسندی – ابن ماجۃ جلد اوّل صـ۲۹۰)

18

دوسرا سجدہ
پھر اللہ اکبر کہہ کر پہلے سجدہ کی طرح دوسرا سجدہ کرے۔
(صحیح بخاری وصحیح عن ابی ھریرۃ ؓ )

1

جلسئہ استراحت
دوسرا سجدہ کرنے کے بعد اللہ اکبر کہتا ہوا سر اُٹھائے۔
(صحیح بخاری وصحیح عن ابی ھریرۃ ؓ )

1
اور اسی طرح اطمینان سے سیدھابیٹھ جائے جس طرح پہلے سجدہ کے بعد بیٹھا تھا یہاں تک کہ ہر ہڈّی حالت اعتدال میں جگہ پر آجائے۔
(صحیح بخاری کتاب الا ستئذان عن ابی ھریرۃ ؓ )

2

دوسری رکعت
پھر دونوں ہاتھ زمین پر تکائے۔
(صحیح بخاری عن مالک بن حویرثؓ)

1
پھر گھٹنے اُٹھانے سے پہلے ہاتھوں کو زمین سے اُٹھالے۔
(صححہ الحاکم و الذھبی جزء اوّل صـ۲۲۶)

2
اور سیدھا کھڑا ہوجائے اور دوسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح ادا کرے۔
(صحیح بخاری کتاب الایمان والتذور عن ابی ھریرۃ)

3
البتہ اس رکعت میں کھڑے ہوتے ہی سورۃ فاتحہ شروع کردے۔
(صحیح مسلم عن ابی ھریرۃ ؓ )

4

قعدۂ اولیٰ
جب دوسری رکعت کا دوسرا سجدہ کرچکے تو اسی طرح بیٹھ جائے جس طرح جلسہ میں بیٹھا تھا۔
(صحیح بخاری عن ابی حریرۃ ؓ )

1
سیدھا بیٹھ جانے کے بعد انگشتِ شہادت سے اسی طرح اشارہ کرے، جس طرح جلسہ میں کیا تھا اور اس کو دُعاء کے وقت حرکت دیتا رہے۔
(صحیح مسلم عن ابن عمرؓ)-(رواہ النسائی عن وائل – و سندہٗ جیّد – بلوغ جلد ۳ صـ۱۴۸ – سندہٗ صحیح – صحیح ابن خزیمۃ جلد اوّل صـ۳۵۴)

2
لیکن مسلسل حرکت نہ دے۔ نگاہ انگشتِ شہادت سے آگے نہ لے جائے۔
(ابوداؤد عن ابن الزبیرؓ و سندہٗ صحیح-مرعاۃ جلد اوّل صـ۶۶۹)

3
اس قعدہ میں خفی آواز سے تشہد(یعنی التحیّات) پڑھے۔
(صحیح مسلم عن عائشۃ الصّدیقۃ ؓ )

4
تشہد کے الفاظ یہ ہیں

اَلتَّحِیَّاتُ لِلہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَشْھَدُ اَنَّ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ وَرَسُوْلُہٗ۔

ترجمہ

تمام عبادتیں، صلوٰۃ اور پاکیزہ کلمات اللہ کے لئے ہیں۔ اے نبی آپ پر سلام ہو۔ آپ پر اللہ کی رحمت اور برکت نازل ہو۔ سلام ہم پر بھی ہو اور اللہ کے تمام صالح بندوں پر بھی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی حاکم اور معبود نہیں سوائے اللہ کے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک (حضرت) محّمد(صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں۔
(صحیح بخاری و صحیح مسلم عن عبد اللہ بن مسعودؓ)

5
اگر دوسری رکعت پر سلام پھیرنا ہو تو ابتداء ہی سے بائیں کو لہے پر بیٹھے۔
اور تشہد کے بعد دُرود و دُعا پڑھ کر سلام پھیردے(اس کا مفصل بیان قعدہ أخیر کے عنوان کے تحت آگے آرہا ہے)۔
(صحیح بخاری عن ابی حمیدؓ)-(ابوداوٗد عن ابی حمید وسندہٗ صحیح)

6
اگر دوسری رکعت پر سلام پھیرنا نہ ہو تو تشہد کے بعد اسی تریقہ سے کھڑا ہوجائے جس طریقہ سے کہ پہلی رکعت کے بعد کھڑا ہوا تھا۔
(رواہ احمد عن ابن مسعود ورجالہ موثقوں – بلوغ ۴/۳ وسندہٗ صحیح)

7

تیسری رکعت
اللہ اکبر کہتا ہو تیسرا رکعت کے لئے کھڑا ہو جائے۔
(صحیح بخاری و صحیح مسلم عن ابی ھریرۃ)

1
سیدھا کھڑا ہونے کے بعد دونوں ہاتھ اسی طرح اُٹھائے جس طرح شروع صلوٰۃ میں اُٹھائے تھے۔
(صحیح بخاری عن ابن عمرؓ)

2
پھر تیسری رکعت بھی اسی طریقہ سے پڑھے جس طریقے سے دوسری رکعت پڑھی تھی۔
(ابوداؤد عن ابی حمید و سندہٗ صحیح)-(رواہ ابوداوٗد عم رفاعۃ وروی احمد نحوہٗ - بلوغ الامانی جزء۳ صـ۱۵۶)

3
اس رکعت میں قرأت آہستہ کرے۔ سورۂ فاتحہ بھی پڑھے اور دوسری سورت بھی۔
(ابوداؤد عن ابی حمید و سندہٗ صحیح)-(رواہ ابوداوٗد عم رفاعۃ وروی احمد نحوہٗ - بلوغ الامانی جزء۳ صـ۱۵۶)

4
سب تیسری رکعت کے دونوں سجدے کرچکے تو اسی طرح بیٹھ جائے جس طرح پہلی رکعت میں بیٹھا تھا۔ سیدھا بیٹھنے کے بعد کھڑا ہوجائے۔
(صحیح بخاری عن مالک بن حویرث)

5
اگر تیسری رکعت پر سلام پھیرنا ہو تو بائیں کولہے پر بیٹھے، اُلٹا پاؤں بچھا کر اس پر نہ بیٹھے، پھر تشہّد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے۔
(صحیح بخاری عن ابی حمیدؓ)

6

چوتھی رکعت
اگر چار رکعت کی صلوٰۃ ہو تو تیسری رکعت کے دونوں سجدے کرنے کے بعد اُلٹے پَیر پر اطمینان سے بیٹھ جائے پھر اسی طریقہ سے کھڑا ہوجائے جس طریقہ سے پہلی رکعت کے بعد کھڑا ہوا تھا پھر اس رکعت کو اسی طریقہ سے پڑھے جس طریقے سے تیسری رکعت پڑھی تھی۔
(صحیح مسلم عن ابی سعیدؓ)
1

قعدۂ اَخیرہ
جب چوتھی رکعت کے دونوں سجدے کرچکے تو بطور تو زک کے سیدھا بیٹھ جائے یعنی بایاں کولہا زمین پر تکائے، اُلٹے پَیر کو باہر نکال کر دونوں پیروں کو ایک طرف کرلے۔ سیدھے پَیر کو کھڑا رکھے(اگر پہلی، دوسری یا تیسری رکعت میں سلام پھیرنا ہو تو بیٹھنے کی کیفیت یہی ہوگی)۔
(صحیح بخاری عن ابی حمیدؓ)
1
ہاتھوں کی، انگلیوں کی اور نگاہ کی کیفیت وہی رہے گی جو جلسہ کے عنوان کے تحت بیان کی جا چکی ہے۔ انگشتِ شہادت سےاشارہ اور حرکت کی کیفیت بھی وہی ہو گی جو تعدۂ اولیٰ کے عنوان کے تحت بیان کی جا چکی ہے۔
(صحیح مسلم عن ابن عمرؓ )
2
پھر التّحیات پڑھے(التحّیات کے الفاظ پہلے گذر چکے ہیں۔
(صحیح مسلم عن عائشہؓ )
3
پھر یہ پڑھے

اَحْسَنُ الْکَلَامِ کَلَامُ اللہِ وَ اَحْسَنُ الْھَدْیِ ھَدْیُ  مُحَمَّدٍ صَلیَّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔

ترجمہ

سب سے بہتر کلام، اللہ کا کلام ہے اور سب سے بہتر طریقہ(حضرت) محمّد صلیّ اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔
(نسائی عن جابرؓ و سندہ صحیح – ورجالہُ ثقات مرعاۃ جلد اوّل صـ۷۱۴)
4
پھر یہ دُرود شریف پڑھے۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاھِیْمَ وَعَلیٰ اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلیٰ اِبْرَاھِیْمَ وَعَلیٰ اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔

ترجمہ

اے اللہ محمّد(صلی اللہ علیہ وسلم) اور اٰلِ محمد پر رحمت نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السّلام) اور آلِ ابراہیمؑ پر نازل فرمائی تھی۔بیشک تو تعریف والا بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) اورآلِ محمدؐ پر برکت نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم(علیہ السّلام) اور آلِ ابراہیم پر نازل فرمائی تھی، بے شک تعریف والا، بزرگی والاہے۔
(صحیح بخاری کتابُ الانبیاء)-[رواہ ابن خزیمۃ و اسنادہ حسن – صححّہ الحاکم(ابن خزیمۃ جزء اوّل صـ۳۵۱)]
5
پھر یہ دُعا پڑھے

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ جَھَنَّمَ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّ جَّالِ۔

ترجمہ

اے اللہ! میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں، دوزخ کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنہ سے اور مسیح دجّال کے فتنہ کے شَر سے۔
(صحیح مسلم عن ابی ھریرہؓ )
6
اس دعا کے بعد اپنے لئے جو دُعا چاہے مانگے۔
[(رواہ النسائی عن ابی ھریرہؓ ) رجالہ ثقات(تقریب)و صححّہ النودی(بلوغ جزء۴ صـ۲۹)]
7
پھر سیدھی طرف منہ کرے، حتیٰ کہ پیچھے والوں کو دایاں رُخسار نظر آنے لگے پھر اپنے پاس والے کی طرف متوجّہ ہوکر کہے۔

اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَ بَرَکَاتُہٗ۔

پھر اسی طرح اپنے بائےطرف منہ کر کے کہے۔

اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَ بَرَکَاتُہٗ۔

دونوں طرف صرف اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ بھی کہہ سکتا ہے۔
(صحیح مسلم عن جابر بن سمرۃ ؓ )
8
سلام کو زیادہ نہ کھینچے بلکہ مختصر کرے۔
(رواہ ابوداوٗد عن ابی ھریرۃ ؓ - صححّہ الترمذی و صححّہ احمد محمّد شاکر فی تعلیقات علی الترمذی)
9

صلوٰۃ فرض کے بعد پڑھنے کی دُعائیں
صلوٰۃ فرض کے بعد بُلند آواز سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے۔
(صحیح بخاری کتابُ الصّلوٰۃ عن ابن عباسؓ)
10
سلام پھیرتے ہی اللہ اَکْبَرُ کہے۔
(صحیح بخاری کتابُ الصّلوٰۃ عن ابن عباسؓ)
11
پھر تین مرتبہ اَسْتَغْفِرُ اللہَ کہے۔
(صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ عن ثوبانؓ)
12
پھر یہ پڑھے

اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَ مِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ یَا ذَاالْجَلَا وَلْاِکْرَامِ۔

ترجمہ

اے اللہ! تو سلام ہے۔ سلامتی تیری ہی طرف سے ہے۔ اے جلال و عزّت والے تو بابرکت ہے۔
(صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ عن عائشۃؓ)
13
پھر یہ پڑھے

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَ ہٗ لَا شَرَیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٌ، الّلٰھُمَّ لَا مَا نِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَاالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔

ترجمہ

اللہ اکیلے کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لئے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے اُسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو رُوک لے اُسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی بزرگ شخص کی بزرگی اُس کو تیرے ہاں فائدہ نہیں پہچاسکتی۔
(صحیح بخاری و صحیح مسلم عن مغیرۃ ؓ )
14
پھر یہ پڑھے

لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَلَا نَعْبُدُ اِلاَّ اِیَّاہُ لَہُ النِّعْمَۃُ وَلَہُ الْفَضْلُ وَلَہُ الثَّنَآءُ الْحَسَنُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ۔

ترجمہ

اللہ اکیلے کے سوا کوئی الٰہ نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کی ہے۔ ہر قسم کی تعریف اسی کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ نہ کسی میں نیکی کرنے کی قوّت ہے اور نہ برائی سے بچنے کی قوّت مگر اللہ کی تو فیق سے۔ کوئی الہٰ نہیں سوائے اللہ کے۔ ہم کسی کی عبادت نہیں کرتے سوائے اُس کے۔ نعمت اُسی کی ہے، فضل اُسی کا ہے اور اچھّی تعریف اسی کے لئے ہے۔ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے، ہم خالص اسی کا دین ماننے والے ہیں خواہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔
(صحیح مسلم کتابُ الصلوٰۃ عن ابن الزبیرؓ)
15
اگر چاہے تو مندرجہ ذیل اذکار کابھی وِرد کرے۔

۳۳مرتبہ سُبُحَانَ اللہِ، ۳۳ مرتبہ اَلْحَمْدُ للہِ، ۳۳ مرتبہ اَللہُ اَکْبَرُ۔
(صحیح بخاری و صحیح مسلم عن ابی ہریرہؓ)

یا

۳۳مرتبہ سُبُحَانَ اللہِ، ۳۳ مرتبہ اَلْحَمْدُ للہِ، ۳۴ مرتبہ اَللہُ اَکْبَرُ۔

یا

۳۳مرتبہ سُبُحَانَ اللہِ، ۳۳ مرتبہ اَلْحَمْدُ للہِ، ۳۳ مرتبہ اَللہُ اَکْبَرُ۔
(صحیح مسلم عن کعبؓ)
16
پھر ایک مرتبہ یہ پڑھے

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہٗ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔

ترجمہ

نہیں کوئی معبود سوائے اللہ اکیلے کے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور ہر قسم کی تعریف اسی کے لئے ہے اوروہ ہر چیز پر قادر ہے۔

جو شخص اس آخری وِرد کو پڑھے تو اس کے گناہ بخش دئے جاتے ہیں اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔
(صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ عن ابی ہریرۃؓ)
17
پھر یہ پڑھے

اَلّلٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ اُرَدَّ اِلیٰ اَرْذَلِ الْعُمُرِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔

ترجمہ

اے اللہ! میں بزدلی سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں اور بُخل سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں اور میں نکمّی عمر سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں اور دُنیا کے فتنہ اور عذابِ قبر سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔
(صحیح بخاری کتاب الدعوات و کتابُ الجھاد)
18
سورۂ قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدُ، سورۂ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور سورۂ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔
(رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی و سکت عنہ المنذری – مرعاۃ جزء اوّل صـ۷۲۳)
19
اٰیَۃُ الْکُرْسِیِّ۔
[رواہ انسائی فی الکبرٰی عن ابی امامۃ و صححہ ابن حیاں والمنذری(مرعاۃ جلد اول صـ۷۲۷)]
20
اور سورۂ قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٗ۔
[رواہ الطبرانی عن ابی امامۃ و سندہ جیّد(مرعاۃجلداوّل صـ۷۲۸)]
21
رَبِّ قِنِیْ عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ۔

ترجمہ

اے میرے ربّ مجھے اس دن اپنے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو(دوبارہ)زندہ کرے گا۔
(صحیح مسلم عن الیلءؓ)
22
تسبیح و تہلیل وغیرہ کا شمار سیدھے ہاتھ کی اُنگلیوں کے ذریعے کرے۔
(رواہ ابوداوٗد کتابُ الصّلوٰۃ باب التسّبیح جزء اوّل صـ۲۱۷)
23
نوٹ:- فرض نماز کے بعد امام اور مقتدیوں کا اجتماعی طور پر دُعا کرنا بد عت ہے۔
صلوٰۃ ادا کرنے کا طریقہ