جماعت المسلمین

جماعت المسلمین کا تعارف

«

جماعت المسلمین کی دعوت

«

جماعت المسلمین کے اوصاف

«

جماعت المسلمین کے امیر

«

جماعت المسلمین
جماعت المسلمین
ڈاؤن لوڈ سینٹر

اللہ کا رکھا ہوا نام


جماعت المسلمین ہی وہ واحد جماعت ہے جس نے اللہ تعالٰی کا رکھا ہوا نام نہیں بدلا۔ اللہ تعالٰی نے ایمان والوں کا نام مسلم رکھا تھا۔

اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔

(اے ایمان والو) اللہ نے تمہارا نام مسلمین رکھا ہے۔

(سورۃ الحج ۔ ۷۸)


جماعت المسلمین کا ہر فرد اپنے کو صرف مسلم ہی کہتا ہے۔ کسی فرقہ وارانہ نام

سے اپنے کو موسوم نہیں کرتا۔


مسلمین کی جماعت کا نام


مسلمین کی جماعت کا نام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت المسلمین رکھاتھا۔ مسلمین نے اپنی جماعت کا نام بھی نہیں بدلا۔ مسلمین کی جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رکھے ہوے نام "جماعت المسلمین" ہی سے موسوم ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خواتین کو بھی جونمازنہ پڑسکیں عیدگاہ میں حاضر ہونےکاحکم دیا تھا۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔

  وہ خواتین بھی(جونمازنہ پڑھ سکیں)جماعت المسلمین کے ساتھ (عیدگاہ میں) حاضر ہوں۔

(صحیح بخاری کتابُ العیدین)


احکام الہٰی و احکام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت


جماعت المسلمین ہی وہ واحد جماعت ہے جو احکام الہٰی، احکام رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سنن رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی درجہ دیتی ہے جو اُن کا حق ہے۔


حضرت امّ عطیّہ رضی اللہ تعالٰے عنہا فرماتی ہیں:۔

ہمیں حکم دیا جاتا تھا کہ ہم عید کےروز(گھرسے) نکلیں (عیدگاہ جائیں)حتّٰی(کہ ہمیں یہ بھی حکم دیا جاتا تھا)کہ ہم کنواری لڑکی کو بھی اس کے پردہ سے باہر نکال کر عید گاہ لائیں حتّٰی کے ان خواتین کوبھی لائیں جواذیّت ماہانہ میں ہوں، وہ لوگوں کے پیچھے رہیں (نماز نہ پڑھیں لیکن)ان کی تکبیروں کے ساتھ تکبیریں کہتی رہیں، ان کی دعا کے ساتھ دعا مانگیں اور عید کے دن کی (خیرو)برکت اور اس کی پاکی (یعنی مغفرت)کی اُمیدوار رہیں۔

(صحیح بخاری کتابُ العیدین)


دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں:۔

ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم ان عورتوں کواوران کنواری لڑکیوں کوجو گھر کے اندرکے پیچھے بیٹھی رہتی ہیں نکالیں (اورعیدگاہ لائیں)

(صحیح بخاری کتابُ العیدین)


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو عیدگاہ میں حاضرہونے

کا حکم دیا۔

جماعت المسلمین اس حکم کو حکم ہی سمجھتی ہےاور اس کی تعمیل کو فرض سمجھتی ہے ۔ جماعت المسلمین کے علاوہ کسی نے اس کو فرض قرار نہیں دیا۔ کسی نے نفل قرار دیا اور کسی نے مکروہ قرار  دیا۔



جماعت المسلمین کے پاس صرف خالص دین ہی ہے


جماعت المسلمیں ہی وہ جماعت ہے جس کے پاس خالص دین ہے۔ اس میں کسی کے فتوے، اجتہاد، رائےاور قیاس کی آمیزش قطآَ نہیں ہے۔


اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔

خبردار ہوجاؤاللہ کا دین تو خالص ہے۔

(الزمر۔ ۳)


ایک اور مقام پر اللہ تعالےٰ فرماتا ہے۔

بے شک منافقین دوزخ کے سب سے نیچے کے طبقہ میں ہوں گےاور(اےرسول)آپ ان کے لئے ہرگز کوئی مددگار نہ پائیں گے مگر وہ لوگ جو توبہ کرلیں، (اپنی) اصلاح کرلیں،اللہ کو(یعنی اللہ کے دین کو)مضبوطی سے پکڑلیں اور اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کرلیں وہ مٔومنین کے ساتھ اجرعظیم عطافرمائے گا۔

(النسآ۔ ۱۴۵،۱۴۶ )


مندرجہ بالا دونوں آیتوں کا خلاصہ یہ ہےکہ دین کو اللہ تعالےٰ کے لئے خالص رکھے ۔ اس میں کسی کے قول و فعل یا رائے کی آمیزش نہ کرے۔

یہ صرف جماعت المسلمین ہی کی خصوصیت ہے کہ وہ اللہ تعالےٰ کے دین میں کسی قسم کی آمیزش نہیں کرتی۔ وہ صرف قرآن مجیداوراحادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو دین سمجھتی ہے۔ جماعت المسلمین کے علاوہ تمام جماعتوں اور فرقوں نے اللہ تعالیٰ کے دین میں علما کے اقوال اور فتووں کو شامل کرلیا ہے۔ ہر جماعت اور فرقے کے ہاں فتووں کی کتابیں موجود ہیں۔ ان کتابوں کا وجود اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ انہوں نے دین کو اللہ تعالےٰ کے لئے خالص نہیں رکھا۔


جماعت المسلمین کا انکار کفر ہے


جماعت المسلمیں ہی وہ جماعت ہےجو کہتی ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے اس کا انکار کفر ہے۔ دوسری کوئی جماعت نہیں کہتی اور نہ کوئی فرقہ دعوےٰ کرتا ہےکہ جو کچھ اس کے پاس ہے اس کا انکار کفر ہے۔ مثلاً احناف نہیں کہتے کہ جو ہماری فقہ یا ہمارے مذہب کا انکار کرے وہ کفر کا مرتکب ہے۔ اہلحدیث بھی نہیں کہتے کہ ان کے مذہب کا انکار کفرہےلیکن یہ سب مانتے ہیں اور کہتےہیں کہ اسلام کا انکارکفرہے۔ اس کے صاف اور صریح معنٰی یہ ہیں کہ اسلام میں اور انکے مذاہب میں فرق ہے۔اگران کےمذاہب بھی عین اسلام ہوتے تو وہ ضرور کہتے کہ جو کچھ اس کا انکار کفر ہے۔ کیونکہ جماعت المسلمین کے پاس صرف اسلام اور خالص اسلام ہے لہٰذا جماعت المسلمین ببانگ وہل کہتی ہے کہ جو کچھ

ہمارے پاس ہے اس کا انکار کفر ہے۔


جماعت المسلمین سے چمٹنے کا حکم


جماعت المسلمین ہی وہ واحد جماعت ہے جس سے چمٹنے کا حکم دیا گیاہے۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔

جماعت المسلمین اور ان کے امیر سے چمٹے رہنا۔

﴾صحیح بخاری کتابُ الفتن و صحیح مسلم کتابُ الامارہ﴿


کیونکہ جماعت المسلمین کے علاوہ کسی جماعت یا فرقے سے چمٹنے کا حکم نہیں دیا گیا۔


جماعت المسلمین کو چھوڑنا جاہلیّت کی موت کودعوت دینا ہے


جماعت المسلمین سے چمٹے رہنے کا حکم دیا گیا ہے لہٰذا اس کو چھوڑنا کسی حالت میں جائز نہیں۔ جماعت المسلمین ہی ہے جو کہتی ہے کہ جماعت المسلمین کو چھوڑنا جاہلیّت کی موت کودعوت دینا ہے۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔

جو شخص اپنے امیر کی کوئی ایسی بات دیکھے جو اسے نا پسند ہوتو اسےچاہیئے کہ اس پر صبر کرےاس لئے کہ جو شخص جماعت سے بالشت بھربھی علیٰحدہ ہوا اور﴾اسی حالت میں﴿ مر گیا تو اس کی موت جاہلیّت کی موت ہوگی۔

﴾صحیح بخاری کتابُ الفتن و صحیح مسلم کتابُ الامارہ﴿


جماعت المسلمین کے علاوہ کوئی جماعت نہیں کہتی کہ اس کو چھوڑنا جاہلیّت کی موت کو دعوت دینا ہے۔



جماعت المسلمین کو چھوڑنا اسلام کو چھوڑنا ہے


جماعت المسلمیں ہی وہ جماعت ہےجو کہتی ہے کہ جماعت المسلمین کو چھوڑنا اسلام کو چھوڑنا ہے۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔

جو شخص جماعت سے بالشت بھر بھی علیٰحدہ ہوااس نے اسلام کی رسّی کواپنی گردن سے علیٰحدہ سوائےاس صورت کے کہ وہ ﴿جماعت کی طرف﴾ واپس لوٹے۔

﴾رواہ الترمذی فی ابواب المثال و صحیحہ﴿


کوئی جماعت نہیں کہتی اور نہ کوئی فرقہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کو چھوڑنا اسلام کو چھوڑنا ہے۔   



امیر کی اطاعت کرنا


جماعت المسلمین ہی وہ واحد جماعت ہے جو امیر کو وہ حیثیت دیتی ہےجو اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دی ہے۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔

جو شخص امیر کی اطاعت سے باہر ہوگیا اور جماعت چھوڑ دی پھر ﴿اسی حالت میں﴾ مرگیاتووہ جاہلیّت کی موت مرا۔

﴾صحیح مسلم کتابُ الامارہ﴿


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔

مسلم آدمی پر ﴿امیرکا حکم﴾ سننا اور اطاعت کرنا لازی ہے خواہ اُسے وہ ﴿حکم﴾ پسند ہو یا نا پسند بشرطیکہ کہ گناہ کا حکم نہ دیا جائے۔

﴾صحیح بخاری کتابُ الحکام و صحیح مسلم کتابُ الامارہ﴿


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔

تم پر ﴿امیر کا﴾ حکم سننا اور ﴿اسکی﴾ اطاعت کرنا لازم ہے، تمہاری تنگی میں بھی اور تمہاری آسانی میں بھی، تمہاری خوشی میں بھی اور تمہاری نا خوشی میں بھی اور ﴿غیر مستحق کو﴾ تم پرترجیع دی جانے کی صورت میں بھی۔

﴾صحیح مسلم کتابُ الامارہ﴿


جماعت المسلمین امیر کی اطاعت کو فرض سمجھتی ہے۔ امیر کی نا فرمانی گویاجماعت کو چھوڑنا ہےاور جماعت کو چھوڑنا جاہلیّت کی موت کو دعوت دینا ہے یعنی اسلام کو چھوڑنا ہے۔ کوئی جماعت یا فرقہ ایسا نہیں جو امیر کی اطاعت کو ایسی اہمیت دیتا ہو۔


امیر کے ہاتھ پر بیعت کرنا لازم ہے


جماعت المسلمین امیر کی اطاعت اور وفاداری کی علامت کے طور پر امیر کے ہاتھ پر بیعت کرنے کو لازم سمجھتی ہے۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔

جس شخص نے ﴿امیرکی﴾ اطاعت سے ہاتھ کھینچ لیا تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اس کے پاس﴿اپنی نجات کے لئے﴾ کوئی حجّت نہیں ہوگی اور جو شخص اس حالت میں کہ اس کی گردن میں ﴿امیرکی﴾ بیعت نہ ہوتو وہ جاہلیّت کی موت مرے گا۔

﴾صحیح مسلم کتابُ الامارہ﴿


جماعت المسلمین ہی وہ جماعت ہے جو کہتی ہے کہ جو شخص امیر کی بیعت نہ کرے اس کی موت جاہلیّت کی موت ہوگی۔ دوسری جماعتوں یا فرقوں میں اِلاَّمَاشَاءاللہُ امیر کی بیعت کو یہ اہمیّت حاصل نہیں۔


یہ بیعت پیری مریدی کی بیعت نہیں ہے۔ یہ بیعت مراقبے، چلّہ کشی، ہزارہ تسبیح پڑھنے اور ضربیں لگانے کی بیعت نہیں ہے۔ یہ بیعت دنیاکے چپّہ چپّہ پر اللہ تعالےٰ کا کلمہ بلند کرنے کی بیعت ہے۔


دنیا میں فرقوں کا خاتمہ


تمام دینا میں اعلائے کلمة اللہ اور اسلام کی سربلندی جماعت کا اہم ترین مقصد اور نصب العین ہے۔ فرقہ بندی کا استیصال بھی جماعت کے اہم مقاصد میں سے ہیں۔



بسم اللہ الر حمٰن الرحیم
جماعت المسلمین کا تعارف
جماعت المسلمین کا تعارف